پاکستان کے مسائل اورنوجوان نسل

ازل سے آج تک اولاد کی پرورش ماں باپ کی ہی ذمہ داری ہے۔ پرورش میں صرف اچھا کھانا اور اچھا لباس نہیں آتا بلکہ اس کی ایسی تربیت کرنا کہ وہ بعد میں والدین اور معاشرے کے لئے ایک اچھا شہری ثابت ہو۔ لڑکپن اور جوانی کی عمر میں قدم رکھتے وقت زیادہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انہیں سخت پابندیوں کا شکار کر دیا جائے بلکہ ان کی نفسیاتی کیفیت اور حرکتوں پر گہری نظر رکھتے ہوئے انہیں اچھے برے کی تمیز فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اچھائی کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی جائے،ضروری ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوان بھی تعلیم و تحقیق کے میدان میں ترقی یافتہ ممالک کے شانہ بشانہ چلنے کی راہ نکالیں۔ آج کے نوجوانوں میں ایسی بیداری کی لہر جگانے کی ضرورت ہے کہ وہ قت و حالات کے اگے سینہ سپر ہوں، کیونکہ اب جنگیں میدانوں میں نہیں لڑی جاتیں، بلکہ ایسے ملک دوسروے ملک کو معاشی شکست سے دوچار کرنے کیلئے پر تول رہاہوتا ہے۔ اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے ہمارے نوجوانوں کے اپنے مستقبل کی ایسی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے،کہ پاکستان کے مالیاتی، معاشی اور اقتصادی شعبے اتنے مظبوط بنائیں کہ وہ کسی بھی سپر پاور کا محتاج نہ رہے۔ وہ نوجوان جس نے ملت کی تقدیر بدلنا تھی اس کے ہاتھوں میں ہتھیار دے دئیے جو اپنے ہی ملک و مفاد پر ضرب لگا رہا ہے۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ آج ساری دنیا مل کر پاکستان اور عالم اسلام کے درپے ہے، جو پاکستان اور عالم اسلام کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مختلف قسم کے تحریک سامنے آرہے ہیں جو ہمارے ملک کو اور اسلام کو کمزور کر نے کی ناپاک کوششیں کر رہے ہیں جیسا کہ ” پختون تخفظ مومنٹ” جو بھارت اور افغانستان کے کہنے پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈاے کر رہے ہیں پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کبھی فرقہ ورایت کے نام پے تو کبھی صوبے کے نام پے تو کہی نسل کے نام پے جہاں پر ہمارے ملک کے نوجوان نسل کا حق بنتا ہے کہ وہ اپنے صلاحیت کام لائے اور ایسے تحریکوں اور پروپیگنڈو ں کو ناکام کریں وہاں ہمارے نئی نسل ٹک ٹاک جیسے فضول ایپ استعمال کرنے میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ جو کہ خود یہودیوں کی ایک سازش ہے اسلامی معاشرے کو برباد کرنے کا اور یقینَا کہ وہ ان میں کافی خد تک کامیاب ہو چکے ہیں۔ ہر لڑکی ہر لڑکا ایکٹر بنا ہوا ہے کھلی عام ناچ گانا ہو رہا ہے۔ کیا ان کے والدین نے ان لوگوں پر تعلیم اس لئے کیا کہ یہ کچھ کام کرنے یا اپنے ملک کے لئے کچھ کرنے کی بجائے سارا سارا دن بیٹھ کر ٹک ٹاک پر ویڈیو بناتے رہیے۔ کیا ان کے ماں باپ کا بھی کوئی حق نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو کوئی اچھا کام کرنے کی حکم دے کم سے کم اتنا تو کہہ سکتے ہے کہ بیٹا تم سارا دن ان فضول قسم کے کاموں میں کیوں لگے رہتے ہوں۔یاد رکھیں کہ قیامت کے دن انسان اس وقت تک اللہ تعالی کے سامنے سے نہیں ہٹ سکتا جب تک وہ اللہ تعالی کے تین سوالوں کا جواب نہ دے جس میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ ”ہم نے تمہیں زندگی دی تھی تم نے اپنی زندگی کیسی گزاری”۔ تو پھر کہنہ فخر سے کہ میں سارا دن ٹک ٹاک پے گانے گاتا تھا ناچتا تھا، کہو سکو گے نہیں نہ تو کچھ اللہ کا خوف کریں اور اپنے اپ پے رحم کریں اپنے ماں باپ پے رحم کریں۔ اپنی زندگی کو سوارنے کی کوشش کریں۔ میں اپنی نئے نسل سے بس اتنی گزارش کرتا ہوں کہ اپنا قیمتی وقت برباد کرنے سے بہتر ہے کہ آپ اپنے آپ کو پہچانے اپنے لئے کچھ کریں اپنے ماں باپ کا سہارا بننے اپنے ملک کا سپہ سالار بننا صرف فوج کے ذمے نہیں ہے کہ وہ ملک کی دیکھ بھال کریں گے ہمارا بھی کچھ فرض بنتا ہے اور اپنے ملک کے لئے کچھ اچھا کریں کیوں کہ یہ ملک ہے تو ہم ہیں ہمارا مرنا جینا سب کچھ اس ملک سے وا بسطہ ہے خطہ کہ ہماری عزت بھی، اگر دنیا کے سامنے ہم اپنے ملک کا مثبت تصویر رکھیں گے نہ تو ہر کوئی ہمارا عزت کرے گا کیوں ہمارا ملک بہت ہی پیارا ملک ہے اور اس میں رہنے والے لوگ بھی بہت محبت کرنے والے لوگ ہے۔ لیکن کچھ لوگوں نے ہمارے ملک کا نام دنیا کے سامنے بدنام کر دیا ہے اور ہمار ا فرض ہے کہ ہم ان لوگوں کہ ان پرو پیگنڈوں کو ناکام بنائے جو ہمارے ملک کا برُا چاہتے ہیں۔ امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ اپنی زندگی پر غور ضرور کرینگے۔

شیئر کریں