برصغیر پاک و ہند کے گیٹ وے کے طور پر خیبرپختونخوا ایک منفرد جغرافیائی محل وقوع کا حامل

برصغیر پاک و ہند کے گیٹ وے کے طور پر خیبرپختونخوا ایک منفرد جغرافیائی محل وقوع،آرکیالوجیکل تاریخ اور قدیم تاریخ کا حامل ہے، تاریخی درہ خیبر کے ذریعے ہندوستان کی طرف مارچ کرنے والے حملہ آوروں کے حملے کا سامنا کیا،خیبرپختونخوا برصغیر میں اپنی بھرپور تاریخ کیلئے جانا جاتا ہے جہاں تقریبا تمام مذاہب کے پیروکار اپنے سیاسی، تجارتی اور کاروباری مقاصد کی تکمیل کے لیے آئے اور ٹھہرے رہے جن کے نتیجے میں مختلف مذاہب بشمول بدھ مت، ہندوسم، سکھ مت اور عیسائیت نے اسلام سے پہلے کئی سالوں تک موجودہ پختونخواہ کے علاقے میں جڑیں پکڑیں۔ریسرچ آفیسر، محکمہ آثار قدیمہ اور عجائب گھر بخت زادہ خان نے’’ اے پی پی ‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ پاکستانی پنجاب کی وادی سون میں انسانی باقیات کی دریافت ابتدائی پیلیولتھک دور کے تقریبا (2ملین سے 90000 پہلے)کے پتھروں اور ہڈیوں کے اوزاروں کے ثبوت کے طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ لوگ یہاں رہتے تھے۔انہوں نے کہاکہ سنگارو غار کی کھدائی کے حوالے سے میاں خان مردان کے معروف ماہر آثار قدیمہ احمد حسن دھانی اور فرید خان نے 1963میں خیبر پختونخوا میں درمیانی پیلیولتھک دور (9,000 سے 27,000 سال پہلے) میں لوگوں کی باقیات کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ پتھروں سے بنی غاروں میں رہ رہے تھے جو اپنی خوراک زیادہ تر پرندوں اور جانوروں کے شکار سے پوری کرتے تھے، ضلع ہری پور کے خان پور اور سنگارو غار میں کھدائی کے دوران قدیم پتھروں، ہڈیوں اور شکار کے اوزاروں کی دریافتیں جو کہ میسیولتھک دور(پتھرکے وقت کادرمیانی دور)موجودہ 10,000 سے 8,600 سال پہلے سے ملتی ہیں سوات اور دیر میں انسانوں کی زندگی کی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہیں جہاں ہر موجودپتھروں پر موجود آثار حقیقت بتاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ پتہ چلا ہے کہ لوگوں نے مٹی اور پتھروں سے برتن، کراکری اور باورچی خانے کے لیے دیگر متعلقہ برتن نوولتھک دور میں بنانا شروع کیے تھے یا جسے عام طور پر تقریبا 8000 سال پہلے کے نئے پتھر کے زمانے کے نام سے جانا جاتا ہے جو بلوچستان کے تاریخی مہر گڑھ سندھ تہذیب کے رحمان ڈھیری ڈی آئی خان اور شیری خان ترکئی صوابی کی کھدائی سے ظاہر ہوتا ہے۔ شواہد نے اس بات کو بڑھا دیا کہ لوگ ان قدیم دور میں پتھر اور مٹی کے گھروں میں رہ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آریائی حملہ آوروں کی قبریں علی گرام سوات، سنگوٹہ چترال اور تیمرگرہ دیر لوئر میں بھی دریافت ہوئی ہیں جو تقریبا 2000 قبل مسیح کے تاریک دور سے تعلق رکھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیم خانہ بدوش آریائی افغانستان کی طرف سے خیبرپختونخوامیں داخل ہوئے اور ہندوستان کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے دریائے سوات، گومل، کرم اور کابل کے کنارے آباد ہوئے،گندھارا تہذیب نے اس صوبے میں جڑیں اس وقت حاصل کی جب فارسیوں نے اسے 6 ویں صدی قبل مسیح میں فتح کیا اور اسے ’هخامنشی‘سلطنت کے صوبوں میں سے ایک بنا دیا۔انہوں نے کہا کہ سوات، دیر، مردان، چارسدہ، پشاور اور مالاکنڈ گندارا تہذیب کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکندر اعظم نے درہ خیبر کے ذریعے برصغیر پر حملہ کیا اور سوات اور کنڑ کی وادیوں میں یوسفزئی قبائلیوں کو زیر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اسے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا،سکندر نے ٹیکسلا میں بھی رہائش اختیار کی جہاں اس کی ملاقات چندرگپت موریہ نامی ایک دلیر نوجوان سے ہوئی جو مشرقی ہندوستان میں مگدھ کا جلاوطن شہزادہ تھا اور موریہ نے سکندر کے نقش قدم پر ایک سلطنت قائم کرنے کا فیصلہ کیا تاہم سکندر کی موت کے بعد ان کا خواب ادھورا ہی رہا۔بعد ازاں سکندر کے جنرل سیلیوکس نے ہندوستان کے علاقوں میں حکومت قائم کی، ہند-یونانیوں نے، تقریبا 39 بادشاہوں اور رانیوں کے ایک گروپ نے اپنی ثقافت کی بنیاد رکھی اور یونانی آرٹ سٹائل کو متعارف کرایا جو اب بھی خیبر پختونخوا میں موجود ہے اور اس کے علاوہ بدھ مت کو فروغ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ محمود غزنوی نے آخری ہندو شاہی بادشاہ جے پالا کو شکست دی اور اس کے بعد خیبرپختونخوا سمیت برصغیر میں اسلام پھیلا۔انہوں نے کہا کہ 1505 میں مغل سلطنت کا بانی ظہیرالدین بابر درہ خیبر کے ذریعے برصغیر میں داخل ہوا اور آخری لودھی بادشاہ کو شکست دینے اور دہلی کا شہنشاہ بننے سے پہلے آج کے کوہاٹ، بنوں کے اضلاع پر قبضہ کر لیا،احمد شاہ ابدالی نے پشاور سے ہندوستان کے کئی مقامات پر کئی مہمات چلائی تھیں تاہم، ابدالی کا دور حکومت (1747 -1772 )عارضی طور پر اس وقت روکا گیا جب 1750 کی دہائی کے اوائل میں مرہٹوں نے حملہ کیا لیکن وہ 1761 میں خیبرپختونخواپر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ 1923 میں پشاور پر قبضہ کیا،ایک اور مقبول آزادی کی تحریک جسے عدم تشدد کی تحریک بھی کہا جاتا ہے، آزادی پسند عبدالغفار خان اور ان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب نے شروع کی اور بعد میں 1937میں خیبر پختونخوا کو خود مختار حکومت دی گئی۔پاکستان سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین محمد یونس خان نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک پاکستان کے دوران خیبرپختونخوا کے عوام اور اسلامیہ کالج پشاور کے طلبا کے شاندار کردار کا ذکر کیے بغیر پاکستان کی تاریخ مکمل نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے لوگوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کا پرتپاک استقبال کیا تھا اور 1946 میں جب وہ یہاں آئے تھے تو آل انڈیا مسلم لیگ کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 1946 کے الیکشن میں مسلم لیگ نے سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کیں اور اس تاریخی فتح کے بعد اس صوبے سے پاکستان کی تحریک آزادی کو کوئی نہیں روک سکتا،جولائی 1947 کے ریفرنڈم میں، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نے خیبر پختونخواہ میں 200,000 سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے بھاری کامیابی حاصل کی اور لوگوں نے پاکستان کا حصہ بننے کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ عبدالغفار خان اور ان کے بھائی ڈاکٹر خان نے حکومت پر زور دیا تھا کہ صوبے کو ایک ایسا نام دیا جائے جو پشتون شناخت کی عکاسی کرتا ہو تاہم، اس صوبے کا نام شمال مغربی سرحدی صوبہ( این ڈبلیو ایف پی)رکھ دیا گیا جب پشتونستان کے نام کو بہت زیادہ متنازعہ ہونے کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا۔بعد ازاں، 2010 میں 18ویں آئینی ترمیم کے تحت پی پی پی-اے این پی کی مخلوط حکومت کے دوران صوبے کا نام بدل کر خیبر پختونخواہ رکھ دیا گیا۔خیبرپختونخوا فاٹا کے انضمام کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور ہائی ویز اور موٹر ویز کے جال کے علاوہ دیگر میگا ایجوکیشن، صحت، مواصلات، زراعت اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے بعد معاشی ترقی کا عمل تیز ہو گیا ہے۔

شیئر کریں