برطانیہ نے پاکستان کو سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ میں شامل کر لیا،برطانوی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے برطانوی حکومت کے فیصلے کی مخالفت کر دی

لندن:پاکستانی نژاد برطانوی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے برطانوی حکومت کے فیصلے کی مخالفت کر دی۔ تفصیلات کے مطابق برطانیہ کی پارلیمنٹ کی رکن پاکستانی نژاد ناز شاہ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کیے جانے کے فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ اس حوالے سے خاتون رکن پارلیمنٹ کی جانب اپنے وزیر خارجہ کو خط تحریر کیا گیا ہے۔اپنے خط میں ناز شاہ نے برطانوی حکومت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس وقت موصول شدہ تازہ اعداد کے مطابق بھارت، فرانس اور جرمنی میں کرونا زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے، پھر بھی ان ممالک کی بجائے پاکستان پر کیوں سفری پابندی عائد کی گئی، پاکستان کو کیوں ریڈ لسٹ میں شامل کیا گیا؟ ناز شاہ کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کا یہ اقدام پاکستان اور پاکستانی کمیونٹی کیخلاف ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز عالمی وبا کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر برطانیہ نے پاکستان کو سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ میں شامل کر لیا۔ برطانیہ نے سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ میں پاکستان کے علاوہ کینیا، بنگلا دیش اور فلپائن کو بھی شامل کیا ۔رپورٹ کے مطابق سفری پابندیوں کی ریڈلسٹ میں شامل ممالک سے صرف برطانوی اور آئرش شہریوں کو ملک میں داخلے کی اجازت ہو گی، ریڈلسٹ میں شامل ممالک سے برطانیہ آنے والے برطانوی شہریوں کو 10 دن قرنطینہ کرنا ہو گا۔برطانوی میڈیا کے مطابق ریڈلسٹ میں شامل ممالک سے برطانیہ آنے والوں پر پابندی کا اطلاق 9 اپریل سے ہو گا۔پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے بھی برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ 9 اپریل یعنی جمعے کی صبح 4 بجے سے ان اقدامات کا اطلاق ہوگا۔برطانوی حکومت نے اس وقت لگ بھگ 40 ممالک کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا ہے جن پر سفری پابندی عائد کی گئی ۔ دوسری جانب اس پابندی کے اعلان کے فوری بعد پاکستان سے برطانیہ کیلئے پروازوں کے کرائے بڑھا دئیے گئے۔اندازے کے مطابق 40 ہزار سے زائد برٹش پاکستانی، اس وقت پاکستان میں ہیں۔

شیئر کریں