پشاور:رنگا رنگ تقریب میں انٹر کالجیٹ خیبرپختونخوا گیمز کا آغاز

پشاور:خیبرپختونخوا انٹر کالجیٹ گیمزحیات آباد سپورٹس کمپلیکس پشاو ر میں پروقار تقریب میں شروع ہوگئیں جس میں صوبے کے مختلف کالجز کے 800 سے زائد مرد وخواتین کھلاڑی چار مختلف گیمزمیں شرکت کررہے ہیں، گیمز کا باضابطہ افتتاح سیکرٹری سپورٹس وامور نوجوانان کیپٹن(ر) مشتاق احمدنے کیا ان کے ہمراہ ڈائریکٹرجنرل سپورٹس خالد خان، ڈائریکٹریس سپورٹس رشیدہ غزنوی،ڈائریکٹر سپورٹس قبائلی اضلاع پیر عبداللہ شاہ، ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ سلیم رضا، وائس چانسلر اسلامیہ کالج یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر گل مجید، ڈائریکٹر سپورٹس عزیز اللہ، ڈائریکٹر یوتھ عرفان علی،ایڈیشنل سیکرٹری ایجوکیشن واجد علی، ڈائریکٹر سپورٹس ہائیر ایجوکیشن ارشد حسین، ڈپٹی ڈائریکٹر سپورٹس جمشید بلوچ، ڈائریکٹر نیب میاں وقار، ڈائریکٹرسپورٹس بے نظیر ویمن یونیورسٹی ماریہ ثمین، ایڈمن آفیسر شاہ فیصل، ایڈمن آفیسر جعفر شاہ سمیت دیگراہم شخصیات موجود تھیں۔ ڈائریکٹریٹ آف سپورٹس خیبرپخٹونخوا کے زیراہتمام منعقدہ انٹر کالجیٹ گیمزکاآغاز مارچ پاسٹ سے ہوا احیات آباد سپورٹس کمپلیکس کو دلہن کی طرح سجایا گیاتھا‘سیکورٹی کے سخت انتظامات تھے‘ تین روزہ مقابلوں میں بوائز کھلاڑی کرکٹ‘فٹبال اور والی بال جبکہ گرلز والی بال‘کرکٹ اور بیڈمنٹن کے مقابلوں میں شرکت کریں گی ایونٹس پشاور سپورٹس کمپلیکس طماس خان فٹبال سٹیڈیم،عبدالولی خان سپورٹس کمپلیکس چارسدہ، بے نظیر ویمن یونیورسٹی، زرعی یونیورسٹی، شمع کرکٹ گراؤنڈ سمیت مختلف وینیوز پر کھیلے جائینگے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری سپورٹس مشتاق احمد نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ صحت مند اور مضبوط ذہین کے لئے مضبوط جسم انتہائی ضروری ہے لیکن بدقسمتی سے سوشل میڈیا اور آن لائن گیمز کی وجہ سے آج کل کے نوجوانان کھیلوں کے میدانوں سے دور چلے گئے،ان کا کہنا تھا کہ سپورٹس ڈائریکٹریٹ کا موٹو نوجوانوں کوصحت مندانہ سرگرمیوں کی جانب راغب کرکے نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانا ہے جو کہ ملک و قوم کا نام روشن کر سکے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح صوبے میں کھیلوں کے لئے اقدامات اٹھائے گئے ہے قابل تحسین ہے صوبے میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ٹیلنٹ کو پالش کیا جائے،ان کا کہنا تھا کہ،سپورٹس واحد شبہ ہے جس کی بدولت دنیا میں اپنی پہچان کے ساتھ ملک و قوم کا نام روشن کرسکتا ہے،پہلے وقتوں میں نہ تو اتنی سہولیات ہوتی تھیں اور نہ ہی اتنی کھیلوں میں بچوں کی حوصلہ افزائی ہوتی تھی لیکن اب ایسا نہیں اب تو سپورٹس ایک انڈسٹری بن چکی ہے اور حکومت اس پر کافی انوسٹمنٹ کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی کیساتھ بھی مستقبل میں ایم اویو سائن کریں گے تاکہ صوبے میں جدید سہولیات سے آرستہ کرکٹ اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا جائے ان کا کہنا تھا کہسپورٹس کی بجٹ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سپورٹس کے لئے صوبائی حکومت کتنا سنجیدہ ہے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی سپورٹس خالد خان نے بتایا کہ ان گیمز کے پہلے مرحلے میں 290 کالجز کے 14000 سے زائد کھلاڑیوں نے حصہ لیا جس میں ہر زون کی فاتح ٹیم صوبائی مقابلوں میں اپنے علاقے کی نمائندگی کررہے ہیں۔تقریب کے آخر میں پشتو کے مشہور گلوکار بختیار خٹک نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھلاڑیوں سے بھرپور داد وصول کی۔

شیئر کریں