کشمیریوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ

اسلام آباد : بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مزید35 ہزار فوجی تعینات کرنے کا اعلان کردیا۔ذرائع کے مطابق بھارت کی جانب سے 10 ہزار فوج کی تعیناتی کے ایک ہفتے بعد مزید فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے مطابق 280 سے زائد کمپنیوں کی پیراملٹری فوررسز وادی میں تعینات ہوں گی۔فوج کی تعیناتی کا فیصلہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دیول کی مقبوضہ کشمیر کے دورے سے واپسی کے بعد آیا جس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے تمام داخلی اور خارجی راستے قابض فوج کے قبضے ہیں۔یاد رہے گزشتہ ہفتے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وادی میں مزید دس ہزار فوجی تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔بھارتی حکومت نے مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں اضافے کا فیصلہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں فوری طور پر فوج کی مزید 100 کمپنیاں روانہ کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ وادی میں انٹیلی جنس کو مضبوط کرنے کیلئے فورسز کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان میں سی آر پی ایف کی 50 کمپنیاں، بی ایس ایف کی 10، ایس ایس بی کی 30 اور آئی ٹی بی کی 10 کمپنیاں شامل ہیں۔یہ احکامات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پیشکش کے بعد جاری کیے گئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اس تنازع پر ثالثی کے لیے تیار ہیں۔دوسری طرفچیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام کہناہے کہ پہلی بار امریکی صدر نے چند دنوں میں دوبار مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیاہے، ڈونلڈٹرمپ نے عالمی سطح پر یہ بات کی، یہ ہمارے لیے سنہری موقع بن گیا ہے،اقوام متحدہ میں کشمیر کی متنازعہ حیثیت تسلیم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو بھارتی آفیشلز نے توڑمروڑ کر پیش کیا۔ ٹرمپ ثالثی کے لیےتیار ہیں انہوں نے اپنی بات دہرائی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر بہتر سال سے حل نہیں ہوا۔ عالمی سطح پر کشمیر کے حوالے سے پانچ رپورٹیں آئیں جن میں بھارتی مظالم بیان کیے گئے۔ بھارت آرٹیکل 35اے کے تحت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتا ہے ۔ بھارت کشمیر میں ہونے والے الیکشن کے حوالے سے تیاری کررہا ہے ۔کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ کشمیر میں پیلٹ گن سے نہتے شہریوں کو بینائی سے محرم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2005 میں انڈیا اور امریکہ نے ایک معاہدے پر دستخط کیے اس پر دو سال لوک سبھا میں بحث ہوئی۔ ٹرمپ نے ثالثی کی بات کی ہے مودی کیا چاہتا ہے یہ مودی جانے؟ ہمیں ہر طرح سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا چاہیے۔ ،ہم یہ جانتے ہیں یہ مسئلہ کشمیر متنازع خطہ ہے ۔ افغانستان کا مسئلہ حل ہو اور کشمیر کا نہ ہو تو جنوبی ایشیا میں امن نہیں ہوسکتا۔ ہمارا بنیادی مقصد کشمیر کی عوام کو انکا حق خود ارادیت دلانا ہے۔