خیبر پختونخواموسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کیلئے فلڈ رسپانس پلان دینے والا پہلا صوبہ بن گیا

اسلام آباد : خیبر پختونخوا کے محکمۂ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی جانب سے ڈویلپمنٹ پارٹنرز کے ساتھ مشاورتی سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ (یو ایس ایڈ) کی معاونت اور یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) کے مرجڈ ایریاز گورننس پراجیکٹ (ایم اے جی پی) کے اشتراک سے تیار کردہ فلڈ رسپانس پلان 2022 پیش کیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار تیار کیے گئے اس پلان کو حالیہ برس آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں کے تناظر میں تیار کیا گیا ہے، اس سیلابوں میں اکیانوے ہزار سے زائد خاندانوں کے گھر سیلاب میں بہ گئے جبکہ چھ لاکھ چوہتر ہزار افراد کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ اس پلان کے ذریعے خیبر پختونخوا حکومت سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی اور انہیں موسمیاتی تبدیلیوں کے رحم وکرم پر ہونے سے بچانے کیلئے قدرتی آفات کے ہاتھوں درپیش خطرات سے پیشگی آگاہی اور ان کے مقابلے کیلئے بہتر منصوبہ بندی کرنا چاہتی ہے۔ اس موقع پر اپنے ابتدائی کلمات میں صوبائی وزیر صحت اور خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا نئے اور انجانے خطرات سے دوچار ہے، یہ نہایت بد قسمتی کی بات ہے کہ اس صورتحال کے پیدا ہونے میں اگرچہ ہمارا کوئی کردار نہیں لیکن ان کے نتائج کا سامنا کرنے میں ہم فرنٹ لائن پر ہیں۔ ان خطرات سے تحفظ کیلئے ہم دستیاب اعداد و شمار اور شواہد اور اپنے وسائل اور ڈویلپمنٹ پارٹنرز کے ساتھ بہتر تعلقات کو بروئے کار لائیں گے اور اپنی حکمت عملی کو موسمیاتی تبدیلیوں اور معاشی چیلنجز کے مقابلے کی استعداد پر استوار کریں گے۔اس موقع پر یو این ڈی پی کے ریزیڈنٹ ریپری زنٹیٹو قنوط اوسبی نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے فلڈ رسپانس پلان کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ یہ پلان موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابل استعداد بڑھانے کیلئے تین پہلوؤں کا احا طہ کرتا ہے جس میں بہتر انفرا اسٹرکچر کی تعمیر، حکومتی اداروں کی بہتر استعداد اور اضلاع کی سطح پر بہتر تیاری شامل ہے، انہوں نے ڈویلپمنٹ پارٹنرز پر اس عمل میں خیبر پختونخوا حکومت کی بھر پور معاونت کرنے پر زور دیا.ایڈیشنل چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے اپنی تفصیلی پریزنٹیشن میں صورتحال کا احاطہ کیا اور فلڈ رسپانس پلان کا خاکہ پیش کیا، انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تخمینے کے مطابق ، صوبائی حکومت کو موسمیاتی خطرات کے مقابل حکومت کی استعداد بڑھانے کیلئے اٹھارہ کروڑ نوے لاکھ ڈالرز اور تعمیر نو اور بحالی کیلئے سینتیس کروڑ بیس لاکھ ڈالرز کی رقم درکار ہے، اس حوالے سے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اضافی وسائل کا استعمال تب ہی نتیجہ خیز ہو گا جب اس حوالے سے مصروف عمل ادارے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کیلئے صوبائی حکومت نے کلائمیٹ ریزیلینٹ انفرا اسٹرکچر فنڈ (سی آر آئی ایف) قائم کیا ہے جو کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی مدد سے پینتیس ارب روپے کی لاگت سے قائم ہو گا، ہم مختلف امکانات خطرات اور اس کے مقابلے کے مختلف طریقوں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ پیش آنے والی قدرتی آفات کیلئے تیار ی کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کا حق ہے کہ انہیں ایسی حکومت میسر ہو جو ایسے حالات کا سامنا کرسکے اور اس کیلئے پوری طرح تیار ہو۔مشاورتی سیشن میں برطانوی ہائی کمیشن اور یو ایس کونسلیٹ اور سویڈش سفارتخانے کے نمائندے اور یورپی یونین کے وفد ، یو ایس ایڈ، ورلڈ بنک، ایشین ڈویلپمنٹ بنک، ایف سی ڈی او، آئی این ایل اور کے ایف ڈبلیو اور دیگر کے نمائندے شامل تھے ، انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے جامع پلان کی تیاری اور قومی سطح کی ایمرجنسی کے مقابل اس عمل کی سرعت سے انجام دہی کو سراہا.خیبر پختونخوا کے مختلف محکموں بشمول زراعت، ایری گیشن، اطلاعات ، ماحولیات، صحت، ابتدائی و ثانوی تعلیم، کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے سیکریٹریز اور ایس ڈی یو، ای پی اے اور پی ڈی ایم اے کے حکام نے بھی مشاورتی سیشن میں شرکت کی۔اپنے اختتامی کلمات میں صوبائی وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے صوبائی حکومت کی جانب سے اپنے ڈویلپمنٹ پارٹنرز کی معاونت کا شکریہ ادا کیا اور اس بات کو اصرار کے ساتھ دہرایا کہ حکومت مختصر مدتی اور طویل مدتی اقدامات پر عمل ممکن بنائے گی تاکہ فوری تعمیر و بحالی کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابل استعداد بڑھائی جائے، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ سیلاب کے ہاتھوں متاثرہ لوگوں کی بحالی اور مستقبل میں انہیں ایسے بحران سے بچانے کیلئے بھر پور اقدامات کریں گے۔

شیئر کریں