جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کئے بغیر ترقی ممکن نہیں،چوہدری فواد حسین

لاہور:وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ دونوں ایوانوں کی پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے’ پارلیمنٹ کو بحیثیت ادارہ سب کو تسلیم کرنا چاہیے، آئندہ بجٹ میں سائنس و ٹیکنالوجی کے بجٹ میں ایک ہزار فیصد اضافہ کرینگے،پاکستان چین کے تعاون سے 2022ء میں سپیس مشن خلاء میں بھیجے گا’ بجلی کی ترسیل کا نظام یکسر تبدیل ہونے جارہا ہے’ 10 سے 15 سال میں پاکستان میں تاریں اور کھمبے ختم ہو جائیں گے’ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے بائیو ٹیکنالوجی پر پوری طرح فوکس کیا ہے’ اگلے 10 سال میں بائیو ٹیکنالوجی سے چار بلین ڈالر کی برآمدات بڑھائیں گے’پاکستان دنیا میں پہلا ملک ہو گا جو اپنی بیٹری سے چلنے والی بسیں متعارف کروائے گا’ بجلی سے چلنے والے رکشے اور موٹر سائیکل جلد مارکیٹ میں آجائیں گے’ پاکستان میں جلد ہی شمسی پینل بھی بننا شروع ہو جائیں گے’ جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کئے بغیر ترقی ممکن نہیں۔وہ پاکستان کونسل آف سائنسٹیفک ریسرچ(پی سی ایس آئی آر) میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کا معاملہ انتہائی اہم ہے’ آرمی ایکٹ میں ترامیم پر اتفاق رائے سے آگے بڑھنا ہو گا، آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے سول اداروں کو سپورٹ کیا ہے ،آرمی چیف کی مدت ملازمت کا معاملہ قانونی سے زیادہ سیاسی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اداروں کے درمیان اتفاق رائے کیلئے ایک نئے میثاق کی ضرورت ہے جس کیلئے دونوں ایوانوں کی پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے ،وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ ادارے ایک دوسرے کا احترام کریں۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کی موجودگی میں اختیارات میں بیلنس کے ذریعے استحکام لاسکتے ہیں’ پارلیمنٹ کو بحیثیت ادارہ سب کو تسلیم کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے کردار کو تسلیم کرنا چاہیے ‘ معاشی پالیسیوں میں بھی اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنے کی ضرورت ہے’ ملکی مسائل کو ایک فرد اور ایک ادارہ حل نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی کیلئے اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کا دل قوم کے ساتھ دھڑکتا ہے’ ان کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے’ حکومت متوسط طبقے کی بہتری کیلئے جدوجہد کر رہی ہے’وزیر اعظم حقیقی معنوں میں نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں،وزیر اعظم کو طاقت اور پروٹوکول میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کئے بغیر ترقی ممکن نہیں،سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں بہتری کیلئے کام کر رہے ہیں’ 70ء کی دہائی کے بعد پہلی مرتبہ ہم تحقیق اور ترقی پر توجہ دے رہے ہیں جبکہ گزشتہ حکومتوں نے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی بہتری کی طرف توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ اس سال سائنس و ٹیکنالوجی کے بجٹ میں ہم نے 600 گنا اضافہ کیا ہے’ آئندہ بجٹ میںسائنس و ٹیکنالوجی کے بجٹ میں ایک ہزار فیصد اضافہ کرینگے’چین کے ساتھ ساتھ روس سے بھی معاہدہ ہو رہا ہے اس کے بعد امریکہ اور برطانیہ سے بھی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے میدان میں معاہدے ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال میں اپنے سولر پینل اور بیٹریز بننی شروع ہو جائینگی’زرعی پیداوار کو بڑھانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہو گا۔