زرداری اور فریال تالپور پر فرد جُرم عائد کرنے کے لیے تاریخ مقرر

اسلام آباد : سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور پر 4 اکتوبر کو فرد جُرم عائد کی جائے گی۔احتساب عدالت میں جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی۔ آصف زرداری اور فریال تالپور کو ریفرنس کی نقول فراہم کر دی گئیں۔ عدالت نے کہا کہ ریفرنس کی نقول کی تقسیم کے بعد آئندہ سماعت پر ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔آصف زرداری کے وکیل لطیف کھوسہ نے پھر جیل میں اے سی کا معاملہ اُٹھایا اور کہا کہ عدالت نے کہا تھا کہ آصف علی زرداری کو اے سی دیں لیکن اے سی نہیں دیا گیا۔ آپ نے کہا کہ فریج دیں لیکن انہوں نے برف کے ڈبے دے دیئے۔ جس پر وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہمیں ابھی تک ریفرنس کی کاپی موصول نہیں ہوئی۔جس پر جج محمد بشیر نے کہا کہ ریفرنس کی نقول موجود ہیں آپ کو بھی ابھی دے دیتے ہیں۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ آج ایک ہمارے اضافی ساتھی کو بھی آپ کے سامنے پیش کیا جانا ہے۔ جس کے بعد عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور پر فرد جُرم عائد کرنے کے لیے چار اکتوبر کی تاریخ مقرر کر دی اور کہا کہ آئندہ سماعت پر آصف علی زرداری اور فریال تالپور پر فرد جُرم عائد کی جائے گی۔ خیال رہے کہ نیب نے 10 جون کو سابق صدر آصف علی زرداری کو میگا منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کیا تھا جس کے بعد سے وہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ سابق صدر آصف علی زرداری کے لیے منی لانڈرنگ میں بھارتی شہری کے ملوث ہونے کا انکشاف بھی ہوا تھا جبکہ جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں سندھ بنک کے سابق سربراہ ندیم الطاف اور دبئی کا شہری ناصر عبداللہ لوتھا وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے۔