بجلی کی قیمت میں ایک بار پھر بڑے اضافے کا امکان

اسلام آباد : حکومت نے بجلی صارفین پر ساڑھے 34 ارب کا اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری کرلی، جس کے لیے بجلی کی قیمت میں 3 روپے 49 پیسے فی یونٹ مزید اضافے کا امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق بجلی 3 روپے 49 پیسے فی یونٹ مزید مہنگی کرنے کی درخواست دائر کی گئی ہے، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے اپریل کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں درخواست دائر کی ہے، نیپرا سی پی پی اے کی درخواست پر 30 مئی کو سماعت کرے گی، درخواست کی منظوری کے بعد بجلی صارفین پرساڑھے 34 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا، تاہم بجلی کی قیمت میں اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہوگا۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اپریل میں فرنس آئل اور ڈیزل سے بجلی پیدا نہیں کی گئی، پانی سے 22 اعشاریہ 96 فیصد اور مقامی کوئلے سے 10 اعشاریہ 19 فیصد بجلی پیدا کی گئی، مقامی گیس سے 11 اعشاریہ 28 فیصد بجلی اور درآمدی ایل این جی سے 24 اعشاریہ 97 فیصد بجلی پیدا ہوئی جب کہ جوہری ایندھن سے 23 اعشاریہ 64 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔دوسری طرف بجلی بے تحاشہ مہنگی کرنے کے باوجود حکومت پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کی وجہ سے ملک کا توانائی سیکٹر کا گردشی قرضہ 2 ہزار 600 ارب روپے کی سطح سے بھی اوپر چلا گیاہے، 7 ماہ میں گردش قرضے میں 300 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ جولائی 2023 ءتا جنوری 2024 ءکے دوران بڑھ کر 26 کھرب 36 ارب روپے سے تجاوز کر گیا جب کہ حکومت کی جانب سے گردشی قرضے کو 23 کھرب 10 ارب روپے تک رکھنے کا دعوٰی کیا گیا تھا، تاہم حکومت اپنے اس دعوے کو یقینی بنانے میں ناکام رہی اور چند ہی ماہ میں گردشی قرضے میں مزید کھربوں روپے کا اضافہ ہو گیا۔سرکاری اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ بجلی کے ٹیرف میں سالانہ، سہ ماہی اور فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بے تحاشہ اضافے کرنے کے باوجود حکومت گردشی قرضہ بڑھنے سے روکنے میں ناکام رہی، یوں رواں مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران توانائی شعبہ کا گردشہ قرضہ 325 ارب روپے اضافے سے 2 ہزار 636 ارب روپے کی تشویش ناک سطح تک پہنچ گیا ہے، گردشی قرضے کو بڑھنے سے روکنے میں ناکام رہنے والی حکومت اب بجلی صارفین پر مزید کھربوں روپے کا بوجھ ڈالنے کی تیاری کر رہی ہے جو ممکنہ طور پر عوام کیلئے ناقابل برداشت ہو سکتا ہے۔