خیبرپختونخوا حکومت کا بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آواز اٹھانےکا فیصلہ

پشاور:وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور سے پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ملاقات کی اور صوبے میں جاری بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ اور وفاق سے جڑے صوبے کے دیگر معاملات پر تفصیلی گفتگو کی۔ملاقات میں ایم این اے فیصل امین گنڈاپور اور گلگت بلتستان کے سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید بھی موجود تھے۔اس موقع پر صوبے میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھرپورآواز اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ بحیثیت پارٹی اس معاملے پر قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھر پور آواز اٹھائی جائیگی اور صوبے میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کو کم کرکے عوام کو ریلیف دینے کیلئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ طے شدہ شیڈول پر اگر عملدرآمد نہ کیا گیا تو اس کے خلاف ہر حد تک جایا جائے گا۔ملاقات میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کو پن بجلی کی مد میں بقایاجات سمیت اس کے دیگر جائز اور آئینی حقوق نہیں دے رہی جس کے خلاف بھی قومی سطح پر مؤثر آواز اٹھایا جائے گا۔ اس موقع پرخیبر پختونخواہ حکومت کی طرف سے پنجاب کے کسانوں سے گندم کی خریداری سے متعلق معاملات پر بھی گفتگو کی گئی ہے اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ پنجاب حکومت اس سلسلے میں پرمٹ لازمی قرار دے کر پنجاب کے کسانوں کا استحصال کر رہی ہے، پنجاب حکومت کے ہاتھوں وہاں کے کسان رل رہے ہیں اور خیبرپختونخواحکومت ان سے پہلے آئے پہلے پائے کی بنیاد پر اچھے ریٹس پر گندم خریدنا چاہتی ہے لیکن پنجاب حکومت کسانوں سے نہ خود گندم خریدی رہی اور نہ ان کو بیچنے دے رہی ہے جو پنجاب حکومت کی طرف سے کسان دشمنی کے مترادف ہے۔دونوں رہنماؤں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 151 کے تحت بین الصوبائی تجارت پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، پنجاب حکومت خیبر پختونخوا کو گندم بیجنے پر قدغن لگا کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ ملاقات میں وفاق کی طرف سے سابق فاٹا اور پاٹا میں مجوزہ ٹیکسوں کے نفاذ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور کہا گیا کہ صوبائی حکومت کو اعتماد میں لئے بغیر سابق فاٹا اور پاٹا میں کسی بھی ٹیکس کے نفاذ کو یکسر مسترد کرتے ہیں، جب تک صوبائی حکومت کو اعتماد میں نہ لیا جائے اور صوبائی حکومت عوام کو اعتماد میں نہ لے تب تک ان علاقوں میں کسی بھی ٹیکس کا نفاذ ممکن ہی نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ان علاقوں کے لوگوں اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لئے بغیر ایسا کوئی بھی اقدام امن و امان کے سنگین مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔