روس کا پاکستان کو رعایتی قیمتوں پر پیٹرول کی فراہمی جاری رکھنے کا اعلان

اسلام آباد:روس نے پاکستان کو رعایتی قیمتوں پر پیٹرول کی فراہمی جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے روسی سفیر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم کسی تیسرے ملک کے ساتھ اپنے تعلقات کو خراب کیے بغیر پاکستان کے ساتھ آزادانہ تعلقات رکھنا سیکھ رہے ہیں۔ روسی سفیر ڈینیلا گانچ نے اس خدشے کو مسترد کردیا کہ روس ، پاکستان کو پیٹرول کی ترسیل جاری نہیں رکھے گا۔روسی سفیر نے مزید کہا کہ پاکستان اور روس قیمتوں کے معاملے پر بات چیت کر رہے ہیں اور امید ہے کسی ایک قیمت پر جلد اتفاق ہوجائے گا۔ ڈینیلا گانچ نے مزید بتایا کہ رواں برس ایک لاکھ ٹن تیل پاکستان کو فروخت کرچکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب اور روس کی طرف سے تیل کی پیداوار میں کٹوتی کی وجہ سے رواں سال کے آخر تک تیل کی عالمی رسد میں قابل ذکر کمی ہو گی، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قمیتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔آئی ای اے کی ماہانہ مارکیٹ رپورٹ میں یہ انتباہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ تیل کی قمیتوں میں یہ تازہ ترین اضافہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کی طرف سے جاری کی گئی اس اپ ڈیٹ کے بعد ہوا، جس میں یہ کہا گیا تھا کہ روان برس عالمی سطح پر تیل کی طلب اور رسد کے درمیان فرق 2007 کے بعد سے سب سے زیادہ ہو گا۔ آئی ای اے نےکہا،”سعودی عرب اور روس اتحاد تیل کی منڈیوں کے لیے ایک زبردست چیلنج ثابت ہو رہا ہے۔‘‘ گزشتہ برس یوکرین پر روسی حملے کے بعد تیل کی قیمتیں حالیہ مہینوں میں گر رہی تھیں۔ تاہم تیل پیدا کرنے والے ممالک کے وسیع گروپ اوپیک پلس میں شامل اتحادیوں سعودی عرب اور روس نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی غرض سے اعلان کیا تھا کہ وہ سال کے آخر تک تیل کی پیداوار میں رضاکارانہ کٹوتیوں میں توسیع کریں گے۔ پیرس میں قائم آئی ای اے کے مطابق، ”ستمبر کے بعد سے سعودی عرب کی قیادت میں اوپیک پلس کی طرف سے تیل کی پیداوار میں کمی رواں برس کی چوتھی سہ ماہی کے دوران تیل کی سپلائی میں نمایاں کمی کا باعث بنے گی۔‘‘ اس عالمی تنظیم نے مزید کہا، ”تیل کے ذخائر کافی حد تک کم سطح پر ہوں گے، جس سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ میں ایک اور اضافے کا خطرہ بڑھ جائے گا جو کہ نازک معاشی ماحول کے پیش نظر نہ تو تیل پیدا کرنے والوں اور نہ ہی صارفین کے مفاد میں ہوگا۔‘‘ سعودی عرب نے جولائی کے مہینے میں تیل کی پیداوار میں شروع کی گئی 10 لاکھ بیرل یومیہ کی کٹوتی میں سال کے آخر تک توسیع کر دی ہے۔