بھارت میں فلسطین

بھارت نے کشمیر میں جو رویہ روا رکھا ہے اسے دنیا دیکھ رہی ہے، 90 لاکھ کشمیریوں کو بھارت نے قید کر رکھا ہے،بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے متعلق آرٹیکل 370 کی منسوخی کشمیر اور کشمیریوں کا مستقبل ہمیشہ کیلئے بدلنے کا خوفناک منصوبہ ہے جس سے ہر کوئی متاثر ہوگا،اسرائیل نے فلسطین میں جو کچھ کیا تھا وہی فارمولا مودی سرکار اپنا رہے ہیں۔

بھارتی حکومت کشمیریوں کا ذریعہ معاش ہی چھین رہی ہیں،بھارتی قابض پولیس، فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں جموں و کشمیر کے ہر کونے میں منشیات فروشوں کو دھکیل کر نوجوان نسل کو برباد کر رہی ہے، یہ عمل دنیا کے انتہائی عسکری خطے میں ایک اور جنگی جرم ہے، بھارتی ایجنسیاں خطے میں بحالی مراکز بھی چلا رہی ہیں جس کا مقصد نوجوان نسل کو اپنے قابو میں کرنا ہے، آئندہ آنے والے سالوں کے دوران خطے میں مسلمانوں کیلئے زندگی تنگ کر دی جائے گی، مقامی پولیس کو ممکنہ طور پر نکسل علاقوں میں منتقل کر دیا جائے گا کہ وہاں لڑو مرو، ان کی جگہ پولیس ان کی اپنی ہوگی جو ریپ، قتل اور دیگر جرائم کی ایف آئی آر کا اندراج نہیں کرے گی جیسا کہ انڈیا میں دیکھا جا رہا ہے،مسئلہ یہ نہیں کہ بھارت کیا کر رہا ہے، بھارت اور اس کی سرکار وہی کر رہی ہے جو اس کا پہلے روز سے ہی ایجنڈا تھا۔

کشمیر کے حوالے سے دیر پا حل صرف یہی ممکن ہے کہ کشمیر کے مستقبل کے فیصلہ میں اس کے عوام کی مرضی و منشا کو شامل کیا جائے اور یہی تاریخی آئین اور سیاسی فارمولا ہے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے خصوصی سٹیٹس کا خاتمہ خود مہذب دنیا کیلئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے اور اگر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو روندتے ہوئے اس طرح غاضبانہ قبضہ کا رجحان عام ہوا اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول کو اپنایا گیا تو اس سے عالمی امن بھی درہم برہم ہوگا اور قومی عالمی اداروں کی عزت و تکریم نہیں رہے گی۔

بھارتی عیّار اور مکار لیڈر شپ سے ہمیں الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔جب سے بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی حثیت ختم کرنے کی ٹھان لی ہے اور وہاں پر ظلم و بر بریت مزید اضافہ کرتے ہو ئے کرفیو لگائی،انٹرنیٹ کی سروس معطل کردی اور لوگوں کو گھروں کے اندر محصور کردیا تو اسی دن سے بھارت کے اندر حکمران جماعت کے علاوہ تمام سیاسی پارٹیوں نے مودی سرکار کے خلاف بولنا شروع کردیا اور بھارت کے اندر انتشار پیدا ہو گیا اور چا ریاستیں بھارت سے الگ ہو گئی،بھارت کی معشیت تباہ و برباد ہو گئی لاکھوں لوگ بے روزگار ہو گئے بھارت اندر سے ٹوٹ گیا لیکن بھارتی میڈیا سب اچھا کے حوالے سے پروگرامات چلاکر پاکستان کے خلاف منفی پرواپگینڈے میں سرگرم عمل ہیں وہ آئے روز نئے نئے ڈرامے بناکر بھارتی لو گوں کو گمراہ کررہے ہیں جو انکی پرانی چال ہے جبکہ دوسری طرف پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے بالکل تیا ر ہے۔

27فروری کے واقعے کے بعد بھارتی فوج کے اوسان خطا ہو گئے ہیں اور پاکستان پر حملہ کرنے سے پہلے سو بار سوچیں گے،ابھی بھارت سوچ میں ہے جبکہ پاکستان کے خفیہ ایجنسیوں اور پاک فوج نے پاکستان میں بھارتی کارندوں پکڑ دھکڑ شروع کردی حال ہی میں کرکے سے تعلق رکھنے والے بھارتی کارندہ عمر دا ؤدنامی شخص کو گرفتار کرلیا۔

عمر کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ بھارتی حمایتی تھا اور پاکستان کے خلاف زہر اگل دیتا تھا وہ بھارتی ایجنسی(را) کیلئے کام کرتا تھا اور اس وقت افغانستان میں مقیم تھا بھارت اور افغانستان نے عمر سے اپنا کام مکمل کرتے ہو ئے اسے افغانستان سے نکلنے کا حکم دیا جیسے ہی وہ بارڈر پرافغانستان سے پاکستان داخل ہو رہا تھا تو پہلے سے موجود پاکستان کے حکومتی اداروں نے گرفتا رکر لیا اس سے قبل بھی عمر جیسے غدار گرفتار ہو چکے ہیں۔

بات ہو رہی تھی بھارت کی معلوم ہوا ہے نریندر مودی عنقریب پاگل ہو نے والا ہے کیونکہ وہ اندر سے ٹوٹ چکا ہے اسے پتہ ہے کہ ہندوستان کے اندر فلسطین قائم ہو نے والا ہے مودی کو یہ بھی معلوم ہے کہ بھارت کسی بھی قیمت پر پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتا،کیونکہ پاکستانی افواج کے علاوہ پاکستانی مرد،خواتین،بوڑھے جوان اور بچے بھی جنگ کیلئے تیا ر ہیں۔

پاکستانی عوام اپنے افواج پر فخر کرتی ہے اور ان کے شانہ بشانہ لڑنے کی آرزو رکھتے ہیں پاکستانی مسلمان شہادت کی خواہش رکھتے ہیں جبکہ بھارتی عوام موت سے ڈرتے ہیں یہی فرق ہے مسلمان اور کافر میں مسلمان موت سے نہیں ڈرتا۔

مودی سرکار نے تو کشمیر حاصل کرنے کیلئے تو زور لگائی ہے لیکن بھارت انکے ہاتھ سے نکل رہا ہے کیونکہ حال ہی میں چار ریاستیں بھارت سے الگ ہو چکی ہیں اور آئندہ چند ہفتوں میں 20سے زائد ریاستیں بھارت کے اند ربن جائیگی ۔

اس وقت ہندوستان میں 33کے قریب قبیلوں نے بھارت سے علیحدگی اختیار کرنے کے مہم تیز کرلی ہے جس کی اصل وجہ مقبوضہ کشمیر ہے، اگر مودی سرکار نے مقبوضہ وادی سے کر فیو نہ ہٹائی تو دن دور نہیں کہ ہندوستان میں ایک نیا فلسطین جنم لے گا۔

شیئر کریں