موجودہ حکومت کی ترامیم سے نیب قوانین کے غلط استعمال کو روکا گیا ہے،وفاقی وزیرقانو ن

اسلام آباد:وفاقی وزیر قانو ن اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ نیب قانون میں 80 فیصد ترامیم وہی ہیں جو عمران خان کے دور میں آرڈیننس کے ذریعے کی گئیں، نیب قانون میں 24 ترامیم پر اسمبلی میں گھنٹوں بحث ہوئی، ترامیمی بل کے حوالے سے صدر مملکت کے اعتراضات پر بھی غور کیا گیا، ترامیم اعلیٰ عدلیہ کے کہنے اور آئین کے مطابق کی گئیں، نیب شہباز شریف کے خلاف کچھ ثابت نہیں کر سکا، گذشتہ دور حکومت میں نیب قوانین سیاسی مخالفین کو دیوار کے ساتھ لگانے کیلئے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ نیب قوانین میں اہم ترامیم کی گئی ہیں،ان 24 ترامیم پر اسمبلی میں گھنٹوں بحث ہوئی، نیب ترمیمی بل کو اسمبلی سے پاس کرایا گیا،اس سے پہلے یہ سات ماہ قائمہ کمیٹی میں رہا، ترمیمی بل کے حوالے سے صدر مملکت کے اعتراضات پر بھی غور کیا گیا، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس پر تفصیلی بحث کی گئی، صدر مملکت نے 70 فیصد ترامیم پر کوئی اعتراض نہیں لگایا تھا، ان ترامیم میں صدر مملکت کی ایک، دو ترامیم کو بھی شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب ترامیم گزشتہ دور حکومت میں بھی کی گئیں،موجودہ حکومت کی ترامیم سے نیب قوانین کے غلط استعمال کو روکا گیا ہے،نیب ترامیم میں ایک بڑا حصہ اپوزیشن کی ترامیم کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب قانون ایک آمر کا قانون ہے، یہ ترامیم بہت پہلے ہونی چاہئیں تھیں، اگر ایسا ہوتا تو ملکی معاشی صورتحال ایسی نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے نومبر 2021 میں آرڈیننس کے ذریعے نیب قانون میں جو ترامیم کیں ان میں سے بیشتر اس قانون میں شامل ہیں، نیب قانون میں 80 فیصد ترامیم وہی ہیں جو عمران خان کے دور میں آرڈیننس کے ذریعے کی گئی تھیں۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ پی ٹی آئی چاہتی تھی کہ ریٹائرڈ جج چیئرمین نیب ہونا چاہئے لیکن ہم اس میں بہتری لائے ہیں، ریٹائرڈ کی بجائے حاضر سروس جج کو چیئرمین نیب تعینات کیا جائےگا،نیب چیئرمین کو دوسری مدت کیلئے تعینات نہیں کیا جا سکے گا۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت تین سال برقرار رکھی گئی ہے، چیئرمین نیب کی عدم موجودگی میں ڈپٹی چیئرمین کو بااختیار بنایا گیا ہے تاکہ ادارہ کے روزمرہ کے امور متاثر نہ ہوں، موجودہ ڈپٹی چیئرمین نیب پاکستان تحریک انصاف کا لگایا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب بارثبوت پراسیکیوشن پر ہے، اپریل 2020 میں پاکستان تحریک انصاف کے خط پر اسلامی نظریاتی کونسل نے نیب آرڈیننس کا سیکشن 14 اسلام اور شریعت سے متصادم قرار دیا اور کہا کہ سب کو شفاف ٹرائل کا حق ملنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نیب ذمہ دار ادارہ ہے، اسے 6 ماہ میں انکوائری اور 6 ماہ میں انویسٹی گیشن مکمل کرنی چاہئے، کیا یہ غلط ترمیم ہے، اگر نیب کو زیادہ وقت چاہئے تو وہ عدالت سے اجازت لے سکتا ہے، ملک میں قتل، زنا بالجبر سمیت دیگر مقدمات میں 14 دن کا ریمانڈ لیا جاتا ہے ، کسی کو بھی 90 روز کے لیے عقوبت خانے میں نہیں ڈالا جا سکتا، ملزم کو گرفتار کرنے کے حوالے سے شرائط طے کر دی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم اعلیٰ عدلیہ کے کہنے اور آئین کے مطابق کی گئیں،ترامیم کے ذریعے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا گیا،گذشتہ دور حکومت میں نیب قوانین سیاسی مخالفین کو دیوار کے ساتھ لگانے کیلئے استعمال ہوتے رہے ہیں، نیب قوانین کی وجہ سے بیوروکریسی نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نیب محمد شہباز شریف کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اس قانون کے خلاف عدالت میں جانا چاہتے ہیں تو جائیں لیکن حق و سچ کی فتح ہو گی۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہم نے ملکی معیشت کومضبوط بنانا ہے،ترقی کے پہیے کو چلانا ہے، سیاسی مخالفین کو دبانے کی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے، اس وقت عثمان بزدار اور خیبرپختونخوا سے کرپشن کی داستانیں سامنے آ رہی ہیں لیکن قانون کے مطابق سب کا احتساب ہو گا ، جن کی باری ہے وہ قانون کے مطابق بھگتیں گے۔ وزیر قانون و انصاف نے کہا کہ لوگوں کو نیب ریفرنس سے پہلے اٹھایا گیا، اب یہ سلسلہ رکنا چاہئے۔بعد ازاں صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کو ہٹانے کے طریقہ کار میں بہتری لائی گئی ہے، چیف جسٹس آف پاکستان حاضر سروس جج کو چیئرمین نیب نامزد کریں گے اور حکومت ان کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی، قانون سازی سے زیر التوا مقدمات میں فائدہ ملتا ہے، چیئرمین نیب کی تعیناتی کے معاملہ پر جلد پیشرفت ہو گی، میاں نواز شریف کے کیس میں عدالت نے کہا ہے کہ کوئی بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے کیس کا میرٹ پر فیصلہ کیا جائے ، ان کی وطن واپسی پر قانون اپنا راستہ بنائے گا۔

Spread the love