موسمیاتی صورتحال اور عالمی بھوک ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ:اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوترش نے عالمی غذائی عدم تحفظ میں موجودہ اضافے سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔چینی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں عالمی بھوک کے بارے میں وزارتی اجلاس کے دوران انہوں نے کہا کہ خوراک کے شدید عدم تحفظ کے شکار افراد کی تعداد صرف 2سالوں میں دوگنا ہو گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی صورتحال اور عالمی بھوک ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائی کے دوران 1.7 بلین لوگ شدید موسم اور آب و ہوا سے متعلق آفات سے متاثر ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ، کورونا وائرس کی عالمگیر کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی مسائل نے آمدنی میں کمی اور سپلائی چین میں خلل ڈال کر غذائی عدم تحفظ کو بڑھا دیا ہے اور مالیاتی منڈیوں تک رسائی کو محدود کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یوکرین میں جنگ موجودہ عوامل کو بڑھا رہی ہے۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے متنبہ کیا کہ روس اور یوکرین کے جاری تنازعے سے لاکھوں کروڑوں افراد کو خوراک کی عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑے گا، اس کے بعد غذائی قلت، بڑے پیمانے پر بھوک اور قحط جیسے بحران برسوں تک جاری ر ہنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے آگاہ کیا کہ گزشتہ ایک سال میں، خوراک کی عالمی قیمتوں میں تقریباً ایک تہائی، کھاد کی نصف سے زیادہ، اور تیل کی قیمتوں میں تقریباً دو تہائی اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگرحالات ایسے رہتے ہیں تو بچوں کی نشوونما متاثر ہونے کا خطرہ ہے، لاکھوں خواتین اور بچے غذائی قلت کا شکار ہو جائیں گے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ لڑکیوں کو اسکول سے نکالا جائے گا اور کام کرنے یا شادی کرنے پر مجبور کیا جائے گا اور لوگ صرف زندہ رہنے کے لیے پورے براعظموں کی جانب سفر کریں گے۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ بھوک کی بلند شرح افراد، خاندانوں اور معاشروں پر تباہ کن اثرات مرتب کرتی ہےتاہم اگر ہم مل کر کام کریں تو قحط سے بچا جا سکتا ہے۔ سکریٹری جنرل نے قلیل مدتی بحران کو حل کرنے اور طویل مدتی نقصان کو روکنے کے لیے 5 فوری اقدامات کا خاکہ پیش کیا جس میں خوراک کی سپلائی میں اضافہ، برآمدات پر کوئی پابندی نہ عائد کرنا اور ضرورت مندوں کے لیے اضافی رقم دستیاب کرنا شامل ہے۔ اختتام پر،اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ خوراک، توانائی اور مالیات سے متعلق گلوبل کرائسز ریسپانس گروپ کمزور لوگوں پر بحران کے اثرات کی شناخت کر تے ہوئے حل کے لیے زور دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ خوراک کے بحران کی کوئی سرحدیں نہیں اور کوئی بھی ملک تنہا اس پر قابو نہیں پا سکتاہے ۔انہوں نے کہا کہ لاکھوں لوگوں کو بھوک سے نکالنے کا واحد حل یکجہتی کے ساتھ کام کرنا ہے۔

Spread the love