قبائلی اضلاع میں بلاتعطل بجلی کی فراہمی کیلئے منصوبے تیار کیے جائیں، وزیر اعلی ٰمحمود خان

پشاور: وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے ٹرائیبل الیکٹرک سپلائی کمپنی( ٹیسکو) حکام کو ہدایت کی ہے کہ قبائلی اضلاع کے عوام کو بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے سلسلے میں بجلی کی ترسیل کے مجموعی نظام کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے قلیل المدتی، وسط المدتی اور طویل المدتی پلانز تیار کئے جائیں، صوبائی حکومت ان پلانز پر عملدرآمد کے سلسلے میں ہر ممکن وسائل اور تعاون فراہم کرے گی۔انہوں نے ٹیسکو حکام کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ قبائلی اضلاع میں فیڈرز کی سطح پر بجلی کی لوڈشیڈنگ کے لئے باضابطہ شیڈول مرتب کرکے اس پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور لوڈشیڈنگ کو ممکن حد تک کم کرنے کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔انہوں نے کہا ہے کہ اگر فی الوقت قبائلی اضلاع میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کو ختم نہیں کیا جاسکتا تاہم بہتر منیجمنٹ اور دستیاب وسائل کے دانشمندانہ استعمال کے ذریعے اس میں کمی ضرور لائی جاسکتی ہے۔وہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ قبائلی اضلاع کے منتخب عوامی نمائندوں کے علاوہ چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹیسکو قاضی طاہر اور ادارے کے دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں منتخب عوامی نمائندوں نے اپنے اپنے اضلاع میں بجلی کے مسائل اور اس حوالے سے عوام کو درپیش مشکلات کے بارے میں وزیر اعلی کو آگاہ کیا۔وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی ضم اضلاع میں بجلی کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لئے جاری منصوبوں پر ٹائم لائینز کے مطابق عملی پیشرفت کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھا ئے جائیں تاکہ مقررہ مدت کے اندر ان منصوبوں کی تکمیل ممکن ہو اور ان علاقوں کے عوام بلا تاخیر ان منصوبوں کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ قبائلی اضلاع میں بجلی کی فراہمی کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے فنڈز کی کمی کو کبھی آڑے آنے نہیں دے گی۔ضم اضلاع میں بجلی کے انفراسٹرکچر کی تعمیر اور اپ گریڈیشن کے منصوبوں پر پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے ٹیسکو حکام نے بتایا کہ تیز رفتار عمل درآمد پروگرام کے تحت ضم اضلاع میں ساڑھے پانچ ارب روپے کی لاگت سے گرڈ سٹیشنز اور ٹرانسمیشن لائنز کے آٹھ منصوبوں میں سے دو مکمل کئے گئے ہیں جبکہ باقی منصوبوں پر 90 فیصد سے زیادہ کام مکمل کیا گیا ہے اور یہ منصوبے جون2022 تک سوفیصد مکمل کئے جائیں۔اسی طرح سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ضم اضلاع میں 1.6 ارب روپے کی لاگت سے گرڈاسٹیشنز اور ٹرانسمیشن لا ئنز کے نومنصوبوں میں سے چھ منصوبے مکمل کئے گئے ہیں جبکہ باقی ماندہ منصوبے جون2022 تک مکمل کئے جائیں گے۔ حکام نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ بیرونی فنڈ کے تحت بھی ضم اضلاع میں 2.5 ارب روپے کی لاگت کے گرڈاسٹیشنز اور ٹرانسمیشن لائنز کے تین منصوبوں میں سے ایک منصوبہ مکمل کیا گیا ہے باقی منصوبے اس سال کے آخر تک مکمل کئے جائیں گے۔وزیر اعلی نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی اور عشروں پر محیط ان کی محرومیوں کا آزالہ موجودہ حکومت اور وزیر اعظم عمران کی ترجیحات میں سر فہرست ہے اور وزیر اعظم نے قبائلی اضلاع کی ترقی اور وہاں کے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی تاکید کی ہے اور صوبائی حکومت وزیراعظم عمران خان کے وڑن کے مطابق قبائلی اضلاع کی تیز رفتار ترقی اور وہاں کے عوام کو فوری ریلیف کی فراہمی کے لئے نہ صرف پر عزم بلکہ اس سلسلے میں ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے۔

Spread the love