معروف خاتون کالم نگار جویریہ صدیق کا بلاگر احمد وقاص گورائیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

اسلام آباد: کالم نگار اور صحافی جویریہ صدیق نے خواتین صحافیوں کو آن لائن ہراساں کرنے پر ہالینڈ میں مقیم بلاگر احمد وقاص گورایہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔احمد وقاص گورائیہ کی جانب سے پاکستانی خواتین صحافیوں پر بےہودہ الزامات اور بدسلوکی کے آغاز کے بعد، جویریہ صدیق نے صحافی خواتین سے درخواست کی ہے کہ وہ ٹوئٹر پر اپنے خلاف ہونے والی بدسلوکی اور دھمکی آمیز پیغامات کو رپورٹ کریں۔جویریہ صدیق نے پاکستان میں نیدرلینڈ کے سفیر ووٹر پلمپ کو مخاطب کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سوال کیا ہے کہ “احمد وقاص گورانیہ کی جانب سے خواتین صحافیوں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر قابل اعتراض پیغامات پر آپ لوگ ایکشن کیوں نہیں لیتے۔”
انہوں نے خواتین صحافیوں بشمول فریحہ ادریس، ملیحہ ہاشمی، سمیرا خان، مہر تارڑ، غریدہ فاروقی اور سحر شنواری سے نیدرلینڈ پولیس کا نمبر اور سوشل میڈیا لنکس شیئر کرتے ہوئے شکایت درج کرنے کو کہا ہے۔
کالم نگار جویریہ صدیق نے احمد وقاص گورایہ کے کچھ قابل اعتراض ریمارکس بھی شیئر کیے

جن میں انہوں نے خواتین صحافیوں کو ’طوائف‘ کہا اور بدکلامی کی ہے۔”
سحر شنواری جوکہ ایک مارننگ شو کی میزبانی کرتی ہیں نے کہا ہے کہ “وہ اتنا بزدل آدمی ہے۔ اسے پچھلی بار اپنی کچھ ٹویٹس ڈیلیٹ کرنی پڑی تھیں جب میں نے آخری بار نیدرلینڈ کی پولیس کا ذکر کیا تھا۔”
ملیحہ ہاشمی نے لکھا ہے “ڈٹی رہو ، جویریہ! میں نے مہینوں پہلے اپنا مقدمہ اللہ کی عدالت میں پیش کردیا تھا ، جب اس نے مجھ پر اسی طرح کے گندے انداز میں حملہ کیا تھا۔”
بی بی سی کی سابق پروڈیوسر ڈاکٹر نازیہ میمن نے مذمتی تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” وہ شخص قابل مذمت ہے۔ چاہے وہ پاک فوج سے نفرت کرتا ہو یا خواتین صحافیوں سے ذاتی رنجش رکھتا ہو، سوشل میڈیا پر اپنی زبان کو کنٹرول کرنا چاہیے۔ یہاں کے لوگ زیادہ سمجھدار ہیں اور جانتے ہیں کہ “کون کیا ہے” ٹرول کر کے وہ خود کو مزید بے نقاب کر رہا ہے۔”
گلف نیوز کی صحافی ثنا جمال نے گورایہ کی بدسلوکی والی ٹویٹس کی رپورٹ کرنے کی تصدیق کی ہے۔

Spread the love