سینکڑوں بچوں کی جان بچانے والے اعتزاز حسن کے یوم شہادت نے پی ٹی ایم، این ڈی ایم کی اصلیت کو بے نقاب کردیا

تحریر: تاج ولی خان ۔۔۔۔
بھارتی ایجنڈے کے تحت کام کرنے والے تحریک پی ٹی ایم اور این ڈی ایم ویسے تو خود کو پشتونوں کے ترجمان ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم پشتونوں کے حقوق کیلئے لڑ رہے ہیں جس میں کوئی حقیقت موجود ہی نہیں اور اس بات کا ثبوت ای یو ڈیس انفو لیب کے رپورٹ سے بخوبی ملتا ہے کہ پی ٹی ایم کس کے اشاروں پر ریاست پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈے کرتے رہتے ہیں۔ پشتونوں کے حقوق کے دعویدار ان پشتونوں کے نام بھی نہیں لیتے جو مخب وطن پاکستانی ہو یا ان کی لاش کو پی ٹی ایم اور این ڈی ایم ریاست پاکستان کے خلاف استعمال نہ کرسکے۔

6 جنوری کو اعتزاز حسن کی یوم شہادت پاکستانیوں نے بھرپور عقیدت و احترام سے منائی اور ان کے درجات بلند کرنے کیلئے دعائیں بھی کی۔ سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس قومی ہیرو کے کارکردگی کو خوب سراہا۔ اعتزاز حسن وہ طالب علم ہے جس نے اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے جان بچانے کیلئے اپنے آپ کو قربان کردیا۔ 8 سال پہلے 6 جنوری 2014 کو، ایک خودکش بمبار نے ہنگو، خیبرپختونخوا کے ایک اسکول میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اعتزاز حسن جو خود ایک طالب علم تھا نے اس خودکش حملہ آور پر قابو کرنے کی کوشش کی اور اس پر قابو پاتے ہوئی خود کو اس دہشتگرد کے ساتھ اڑا دیا لیکن اپنے سینکڑوں ساتھیوں کی جانیں بچائیں۔ اعتزاز حسن کے بہادری کو سراہتے ہوئی ریاست پاکستان نے 6 ستمبر 2015 کو اسے تمغہ شجاعت سے نوازا جبکہ ہیرالڈ میگزین کی جانب سے اسے ہیرو آف دی ائیر کا اعزاز بھی دیاگیا۔

جب بھی کسی پاکستان مخالف ایجنڈے کے تحت کام کرنے والوں کی یوم وفات ہوتی ہے تو پی ٹی ایم اور این ڈی ایم والے اس کیلئے ٹرینڈ کرتے ہیں لیکن اعتزاز حسن کیلئے پی ٹی ایم کے کسی بندے نے ایک ٹویٹ تک نہیں کیا۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اعتزاز حسن جو خود پشتون ہونے کے ساتھ، کئی پشتون بچوں کی جان بھی بچائی تو پھر اس کے یوم شہادت پر ٹرینڈ تو دور کی بات ہے اس کیلئے ایک ٹویٹ تک نہیں کی۔پی ٹی ایم ریاست کو توڑنے کی کوشش کرنے والے علی وزیر، دو پولیس آفیسرز کو شہید کرنے والے حنیف پشتین اور پی ٹی ایم کے غنڈوں کو ریاستی اداروں پر حملے کیلئے اکسانے والے اویس ابدال کیلئے احتجاج تو کرسکتے ہیں، ریاست کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرنے والے خواگہ خیل احتجاج کیلئے آواز تو اٹھا سکتے ہیں لیکن جس بچے نے سینکڑوں پشتون بچوں کی جان بچائی اس کیلئے ایک ٹویٹ تک نہیں کی۔ کیوں؟

اس کیوں کا جواب یہ ہے کہ وہ اسلئے کیونکہ پی ٹی ایم اور این ڈی ایم کا ایجنڈا ریاست کے خلاف پروپیگنڈا کرنا اور ریاست مخالف لوگوں کو سپورٹ کرنا ہے جس کیلئے ان لوگوں کو بیرونی ممالک سے فنڈنگ ہوتی ہے اور اس بات کا اعتراف پی ٹی ایم کے سابق اور این ڈی ایم کے موجودہ رہنما عبداللہ ننگیال نے اس وقت کیا جب پی ٹی ایم کے ممبرز نے ان کو وزیرستان میں پی ٹی ایم کے جلسے کے سٹیج سے دھکے دے کر وہاں سے نکالا اور پی ٹی ایم اور این ڈی ایم نے ایک دوسرے سے راستے جدا کر لیے

اور اس سے یہ بات بھی واضخ ہو گئی کہ ان لوگوں کا مقصد پشتونوں کے حقوق ہرگز نہیں ہے دونوں پی ٹی ایم اور این ڈی ایم اپنے مفادات کیلئے پشتون کارڈ کو استعمال کرتے ہیں۔

Spread the love