شمالی وزیرستان میں تنازعات کے حل کیلئے متبادل طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، شوکت علی

پشاور: کمشنر بنوں ڈویژن شوکت علی یوسفزئی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے شمالی وزیرستان میں سول اور کریمنل تنازعات کے حل کیلئے متبادل طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس کے تحت ضلع کے دانا، معتبر اور سمجھ بوجھ رکھنے والے ثالثین کے ذریعے بہت قلیل وقت میں لوگوں کے تنازعات حل کئے جائینگے۔جس میں عدلیہ اور انتظامیہ کا بھی مثالی اور کلیدی کردار ہوگا۔تاکہ قبائل کے انضمام کے بعد عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہو اور قلیل مدت میں عوام کو فوری اور سستے انصاف کا حصول ممکن ہو سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں (اے۔ڈی۔ار) الٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن نظام کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ریجنل پولیس آفیسر بنوں ڈویژن ساجد علی، ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان شاہد علی خان،سینئر سول جج شمالی وزیرستان عبدالحسن مومند، ڈائریکٹر ریجنل پراسکیوشن گل وارث خان،میجر سید انور اور دیگر عہدیداران موجود تھے۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان شاہد علی خان نے (اے۔ڈی۔ار) آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن طریقہ کار پر شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی ۔جس کے مطابق ڈویژنل کمشنر کی سربراہی میں کمیٹی اچھے کرداراور کارکردگی کے حامل ضلع شمالی وزیرستان کیلئے پچاس ثالثین کا انتخاب کریگی۔جو دیوانی اور فوجداری مقدمات کو علاقے کے روایات ثقافت اور رسم و رواج کے عین مطابق اپنے تجربات کی بنیاد پر افہام وتفہیم سے حل کرینگے۔علاؤہ ازیں سول کورٹ کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ کہ وہ مقدمہ کو دونوں فریقین کی رضامندی سے اے۔ڈی۔ار جرگہ سسٹم کو مختصر وقت میں حل کرنے کیلئے بھیج دیں۔اے۔ڈی۔ار جرگہ سسٹم کسی بھی مقدمے کو دو۔ مہینے سے چھ مہینے کے عرصہ میں حل کرنے کا مجاز ہوگا۔کسی بھی ثالث پر اعتراضات کی صورت میں منتخب کرنے والا مذکورہ فورم رائے شماری کے ذریعے اسکی رکنیت معطل یا منسوخ کرسکتی ہے۔اسی طرح اگر کوئی فریق اے۔ڈی۔ار سسٹم کے تحت مقدمے کے فیصلے سے مطمئن نہیں تو وہ دوبارہ معلقہ عدالت میں اپنا مقدمہ لیجا سکتا ہے۔اجلاس کے شرکاء نے اے۔ڈی۔ار کے طریقہ عمل کو مزید بہتر اور قابل عمل بنانے کیلئے تجاویز بھی پیش کئے۔اے۔ڈی۔ار کا طریقہ کار سب سے پہلے صرف شمالی اور جنوبی وزیرستان کے لئے وضع کیا گیا جس کی وجہ وہاں پر مسائل اور تنازعات کی بہتات ہے۔ جس کو مزید اضلاع تک بڑھایا جائیگا۔

شیئر کریں