یکم مئی اورمزدور خواتین

…….تحریر: عبداللہ شاہ بغدادی ….
ہر سال یکم مئی کویوم مزدور کے طور پر منایا جاتا ہے۔ جسے عالمی سطح پر منانے کی ابتداء 1886 ء سے امریکہ کے شہر شکاگو سے ہوتی ہے۔ لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس دن کی اہمیت او راپنے حقوق سے خود مزدور طبقہ ہی لاعلم ہوتاہے۔ پہلے مزدور کا تصور یہ تھا کہ وہ صرف جوان مرد ہی ہوتے ہیں،لیکن اب تو پیٹ کی آگ، بوڑھوں، عورتوں اور بچوں تک کو بھی مزدوری کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ مزدور عورتیں اکثر عمارتوں کی تعمیر میں حصہ لیتی نظر آتی ہیں۔مزدوری کرنے کے لئے مزدوروں کے بچے بھی مجبور ہیں، اکثر ہوٹلوں، دوکانوں اور کارخانوں میں یہ بچے مزدوری کرتے مل جاتے ہیں۔ گرچہ بچوں کو مزدوری کرنا اور کرانا قانوناََ جرم قرار دیا گیا ہے، لیکن جب قانون ان مزدور بچوں کی غربت وافلاس کا کوئی متبادل پیش کرنے میں ناکام ہے تو پھر انھیں مزدوری کرتے ہوئے کیسے روکا جا سکتا ہے۔ یوم مزدور کے ضمن میں ابتداء دراصل شکاگو(امریکہ) سے ہوتی ہے۔ جہاں پہلی بار 1886ء میں مزدوروں نے باضابطہ طور پر کام کے اوقات کو آٹھ گھنٹے کرنے اور ہفتہ میں ایک دن کی تعطیل کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جنھیں نہیں ماننے پر مزدوروں نے پہلی بار احتجاج بلند کی اور ہڑتال کردیا۔ اس ہڑتال اور مظاہرہ کے دوران کسی انجان شخص نے ایک بم بلاسٹ کر دیا، جس سے ناراض ہو کر وہاں پر موجود پولیس نے فائرنگ شروع کر دی اور اس فائرنگ میں کئی مزدور ہلاک ہو گئے۔ اس حادثہ کے بعد 1889 ء میں پیرس میں عالمی جنرل اسمبلی کی دوسری میٹنگ میں فرنچ انقلاب کو یاد کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کیا گیا کہ اس سانحہ کی تاریخ یعنی یکم مئی کو عالمی سطح پر یوم مزدور کے طور پر منایا جائے۔ اس قرارداد کے منظور ہوتے ہی اسی وقت 80 ممالک نے یوم مئی یا یوم مزدور کے موقع پر قومی تعطیل کا بھی اعلان کر دیا۔ اس طرح یوم مزدور وجود میں آیا اور اس وقت نعرہ دیا گیا تھا ”دنیا کے مزدور ایک ہوں“۔یکم مئی خالص مزدوروں کا دن ہے اس دن ملکی آبادی کا 52 فیصد خواتین کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مزدوروں میں 71 فیصد تعداد خواتین کی ریکارڈ کی گئی ہے، زرعی کا کارکن سے لے کر ہر طرز کی چھوٹی صنعت، فیکٹری، بھٹہ خشت، ہوزری، ٹیکسٹائل، ہینڈی کرافٹس، دستکاری،ہینڈی کرافٹس، مختلف النوع اشیاء کی تیاری اور تعمیراتی پروجیکٹس میں خواتین مزدوروں کا عددی حصہ مردوں سے زیادہ ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں حالات انتہائی بدتر اور ناگفتہ بہ ہیں، مزدوروں کی رجسٹریشن نہیں کی جاتی انہیں سرکاری طور پر اعلان شدہ انتہائی کم معاوضہ جو 15ہزار روپے کے لگ بھگ ہے وہ بھی نہیں ملتا، کنٹریکٹ کے نام پر مزدوروں کا بدترین استحصال کیا جاتا ہے، مستقل تقرر نامے نہیں دیئے جاتے تاکہ نوکری سے بلا وجہ نکالے جانے پر وہ لیبر کورٹ سے رجوع نہ کرسکیں۔ تمام تر مزدور یونینز کے احتجاج موثر کردار کے باوجود پاکستان کے مزدوروں کی حالت زار ابتر ہے۔ قیام پاکستان کے موقع پر خواتین کو سرکاری سطح پر برابر کا شہری تسلیم کیا گیا، 1958ء کے آئین اور 1973ء کے آئین میں بھی معاشرتی حقوق میں مساوات اور صنفی امتیاز کے خاتمے کی ضمانت دی گئی مگر شکاگو کی صنعتی اشرافیہ کی ذہنیت نسل در نسل منتقل ہوتی رہی اور وہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ پاکستان میں غیر سرکاری تنظیموں کے اعداد وشمار کے مطابق ملک بھر میں خام مال لا کر مصنوعات تیار کرنے والے ہوم بیسڈ ورکرز کی تعداد اڑھائی کروڑ سے زائد ہے جن میں 1 کروڑ 40 لاکھ سے زائد خواتین ہیں۔ ان مزدوروں کو مراعات دینا تو دور کی بات انہیں وہ حقوق بھی نہ مل سکے جن کی گارنٹی آئین اور مختلف عالمی وعلاقائی چارٹرز دیتے ہیں۔ خواتین مزدوروں کے ساتھ سلوک انتہائی اذیت ناک ہے۔ ہوم بیسڈ ورکرز کا جنسی استحصال، انہیں ہراساں کرنا، تشدد کا نشانہ بنانا انتہائی معمولی اجرت پر 24 گھنٹے کے لیے معصوم بچیوں اور خواتین سے مشقت لینا ایک عام پریکٹس ہے۔ ہوم بیسڈ ورکرز خواتین کے استحصال کے واقعات لاہور، اسلام آباد کراچی کی پوش ہاوسنگ سوسائٹیوں کے مکین بھی اس استحصال میں کسی سے کم نہیں۔ غریب والدین کی معاشی مجبوریوں کے پیش نظر ان کے لخت جگر رہن رکھ لیے جاتے ہیں اور پھر ان کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے ہر مزدور کا مطالبہ ہے کہ انہیں بطور مزدور رجسٹرڈ کیا جائے اور اس کا باقاعدہ اندراج ہونا چاہیے اور تنخواہ اوقات کار سمیت جملہ امور کا ڈیکلیریشن ہونا چاہیے اور اس ضمن میں ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی خدمات لی جا سکتی ہیں جس طرح نکاح، فو تگی اور پیدائش کا اندراج مقام یونین کونسل میں ہوتا ہے اسی طرح گھروں میں کام کرنیوالی خواتین کا اندراج بھی مقام یونین کونسل میں ہونا چاہیے اور اس حوالے سے ابہام سے پاک قانون سازی کی جانی چاہیے۔ یہ قوانین وفاقی سطح پر بننے چاہیں اور چاروں صوبائی حکومتیں ان پر عملدر آمد کی پابند بنائی جانی چاہیں۔ عورت باپ، شوہر اس کے بعد اولاد نرینہ کی تابع اورمحکوم تھی لیکن اسلام ایک ایسا مذہب اور ضابطہ حیات ہے جس نے عورت پر احسان عظیم کیا۔ اس کو ذلت و پستی کے گڑہوں سے نکالا اور اسے ماں، بہن، بیٹی، بیوی کی شکل میں عزت واحترام سے نوازا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحم اللعالمین بن کر تشریف لائے۔ آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی ذلت و رسوائی کے گڑھے سے نکالا، زندہ دفن کردی جانے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے، قومی و ملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اس کو ذمہ داریاں سونپی۔ اسلام میں عورت پر سب سے پہلا احسان یہ کیا کہ عورت کی شخصیت کے بارے میں مردوعورت دونوں کی سوچ اور ذہنیت کو بدلا۔ اگر ہم اسلامی تعلیمات کے تناظر میں خواتین کے حقو ق کے بارے میں مطالعہ کریں تو ہمیں مساوات اور برابری نظر آتی ہے، یہ برابری زندگی کے ہر شعبہ کا احاطہ کئے ہوئے ہے اس میں مردوخواتین میں کوئی امتیاز روا نہیں رکھا گیا، اسلام دین فطرت ہے جو دنیا اور آخرت دونوں کے مقاصد کو انسان کی دنیاوی محنت کے حوالے سے اپنے اہل وعیال کے لیے حصول رزق کے مساوی مواقع فراہم کر تاہے۔ معاشرتی میدان میں جس طرح لادین معاشروں نے عورت کو کانٹے کی طر ح زندگی کی رہ گزر سے ہٹانے اور مٹانے کی کوشش کی تو اس کے بالکل برعکس اسلامی معاشرہ میں بعض حالتوں میں عورت کو مردوں سے زیادہ اہمیت فوقیت اور عزت واحترام سے نوازا۔ عورت کے قدموں میں جنت ہے کہا گیا مگر یہ فضیلت اور اعزاز مرد کو نہیں دیا گیا۔ قرآن پاک میں حکم دیا گیا عورتوں سے حسن سلوک سے پیش آؤ چنانچہ شوہر کو بیوی سے حسن سلوک اور فیاضی سے برتاؤ کرنے کی ہدایت کی گئی اور ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں اچھے ہیں اور اپنے اہل عیال سے لطف و مہربانی کا سلوک کرنے والے ہیں۔ آج بھی یہ ذہنیت موجود ہے کہ عورت کو گھر کی نوکرانی کا درجہ دیا جاتا ہے ایسی سوچ رکھنے والے بھی مذکورہ قرآنی احکامات اور احادیث مبارکہ کو پیش نظر رکھیں اور اپنی سوچ کی اصلاح کریں۔

شیئر کریں