خیبر: جمرود میں تنازعات کو تیگہ کے ذریعے حل کرنے کیلئے سیکورٹی فورسز اور مشران کا مشترکہ جرگہ

خیبر: جمرود میں تنازعات کو تیگہ کے ذریعے حل کرنے کے حوالے سے سیکورٹی فورسز اور مشران کا مشترکہ جرگہ کا انعقاد کیا گیا تھا ۔اس سلسلے میں جمرود پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و سابق امیدوار پی کے 106امیر محمد خان کے حجرے میں ایک جرگہ منعقد ہوا جس میں سیکورٹی فورسز حکام،ہولیس حکام،قبائیلی مشران ،وکیل،علماء اور صحافیوں نے شرکت کی۔جرگہ میں امن و امان ، زمینی و دوسرے تنازعات کی وجہ سے خراب صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے روایتی تیگہ(فائرنگ بندی)کے خصوصیات پر بحث کی گئی اور تنازعات اور خاص کر اراضی تنازعات کی وجہ سے خراب امن صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے تیگہ رکھنے امن قائم کرنے کے لیے جرگہ کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔جرگہ سے امیر محمد خان افریدی، کمانڈنٹ خیبر رائفلز کرنل رضوان اختر،چترال سکاؤٹس کے چترال سکاؤٹس جعفر،پولیس کے ایس ڈی پی او محمد نواز،ایس ایچ او امجد آفریدی،خیبر بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالروف ایڈوکیٹ ،تنظیم اہلسنت والجماعت کے علامہ عدنان قادری،قبائلی مشران ملک سرفراز زوراخیل،ملک صلاح الدین،ملک اورنگزیب ملاگوری،ملک منان ملاگوری،ملک غفار کوکی خیل،ملک شاہ محمود،ملک ذہین گل افریدی،ملک نجیب طورخیل،ملک خان والی،سلیم کھٹیا خیل،ملک ضراب ابدال خیل،حاجی سید رحیم افریدی،جمال افریدی و دیگر نے کہا کہ انضمام کے بعد قبائلی اضلاع و خاص کر خیبر میں زمین کے تنازعوں میں اضافہ ہوا ہے اس تنازعوں کو حل کرنے کے لیے روایتی جرگہ و روایتی تیگہ رکھنے کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ تیگہ قبائلی روایت میں تیز امن اور فائر بندی کے لیے آلہ کار ہے جبکہ روایتی تیگہ کمیٹی تشکیل قبائلی علاقوں میں ہر طرح کی برائیوں کا حل ہے۔انہوں نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے ،فریقین کے مابین مفاہمت ،امن و امان کے حکام کی معاونت اور مقامی عمائدین کو متحرک کرنے کے لیے زمہ دار جرگہ کے ذریعے ہونے سے پہلے کسی بھی تنازعہ کو روکنے کے لیے پیش قدمی اقدامات کو شامل کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ فاٹا خیبر پختونخوا میں ضم کرنا ایک لازمی لیکن اچانک تبدیلی تھی جس میں عجلت میں تبدیلی کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں بالعموم اور خاص کر تحصیل جمرود میں مزید مسائل پیدا ہوئے اس لیے اس صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے تیگہ کے زریعے امن قائم کیا جائے۔جرگہ سے کمانڈنٹ خیبر رائفلز نے کہا کہ قبائلی عوام اور فورسز کی قربانیوں کی وجہ سے یہاں امن قائم کیا گیا ہے اب مقامی تنازعوں پر امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کی اجازتِ نہیں دے گے اس لیے قبائلی عوام امن کو برقرار رکھنے ترقیاتی کاموں کی خاطر آپس کے مسائلِ جرگوں اور مفاہمت کے زریعے حل کیا کریں ہم تعاؤن کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بہت مشکل کے بعد یہاں پر امن قائم کیا گیا ہے اس لیے اس پر امن فضاء کی قدر کرنی چاہیئے اور مزید ترقی کے لیے حکومت سے تعاون کریں۔انہوں نے کہا کہ فورسز کا کام امن کو برقرار رکھنا ہے جس میں فورسز ہمہ وقت تیار ہے تاہم علاقائی مسائل عدالت و انتظامیہ اور حکومت کی ہے مفاہمت اور مل بیٹھ کر حل امن قائم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ قبائلی روایات قابل قدر ہے اس لیے تمام مسائل و تنازعات اپنے روایت کے ذریعے حل کرنا چاہئیے۔

شیئر کریں