قبائلی ضلع مہمند اور خیبر میں لیشمینیا وائرس کی وباء سے درجنوں بچے مثاتر

پشاور:قبائلی ضلع مہمند اور خیبر میں لیشمینیا وبائی صورت اختیار کر گیا،لیشمینیا وائرس کی وباء سے درجنوں بچے مثاتر،ضلع خیبر لنڈیکوتل کے دور افتادہ علاقہ لوئی شلمان اور ضلع مہمند کے تحصیل خویزئی میں لیشمینیا مرض وبائی شکل اختیار کرگئی ہے جس سےدرجنوں بچے متاثر ہو ئے،قبائلی عمائدین نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ سال لیشمینیا سے متعلق خیبر پختو نخواحکومت نے کوئی بہتر اقدام نہیں اٹھائے تھے جسکے سبب یہ بیماری دوبارہ پھوٹ پڑی ہے۔ جوکہ صوبائی حکومت اور انتظامیہ کی بےحسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ڈاکٹروں کے مطابق لیشمینیا وائرس ایک لیشمینیا نامی مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے اور یہ مچھر عام مچھر سے کافی مختلف ہے۔ جسکے کاٹنے سے جسم کے متاثرہ حصے پر زخم بن جاتا ہے اور وہ پھیلتا جاتا ہے اور اس کیساتھ لیشمینیا مچھر جس شخص کو کاٹتا ہے پھر اس متاثرہ شخص کوعام مچھر جب کاٹتا ہے تو یہ وائرس اس عام مچھر میں بھی منتقل ہوجاتا ہے اور اسے لیشمینیا مچھر بنادیتاہے۔پھر اسکے کاٹنے سے بھی یہ بیماری لگتی ہے۔ اس وائرس سے متعلق لوگوں میں آگاہی فراہم کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ کیونکہ اکثر لوگ ایسے زخم کے علاج کیلئے دیسی ٹوٹکے استعمال کرتے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ یعنی اگر کسی کا زخم ذرا سی بے احتیاطی کی وجہ سے مزید گہرا ہوجائے تو ایک تو خون کی رگیں اس سے کٹ جاتی ہیں اور دوسرا کینسر کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے جس سے مریض کی موت واقع ہوجاتی ہے۔بیماری کا خطرناک پہلو بتاتے ہوئے ڈاکٹر نے کہا کہ اس بیماری کے شکار افراد اگر صحت یاب ہو بھی جائیں تو اس کے زخم کی جگہ پر اپنا دھبہ یعنی نشان ہمیشہ کیلئے رہ جاتا ہے،انہوں نے مزید بتایا کہ لہذا اس بیماری کا واحد حل یہ ہے کہ ناصرف قبا ئلی علاقوں بلکہ ملک بھر میں حکومتی سطح پر اس لیشمینیا وائرس کے خلاف مچھر مار سپرے کئے جائے تاکہ مچھر کی افزائش نسل کو جڑ سے ختم کیا جائے تب جاکر اس بیماری سے ہماری جان چھوٹے گی ورنہ اس مچھر کی نسل جتنی بڑھتی جائے گی یہ اتنا پھیلتا جائے گا اور اللہ ناکرے کی یہ بیماری ہماری عدم توجہ کے سبب پاکستان بھر میں پھیل جائے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ اس کے احتیاط کیلئے مچھردانیاں استعمال کریں اور جہاں مچھر زیادہ ہوں وہاں اپنے چہرے ناک، کان اور ہاتھ سمیت جسم کے ظاہری حصوں کو ڈھانپ کر رکھیں۔ تاکہ اس مچھر کے کاٹنے سے بچ سکیں۔

شیئر کریں