کیا کرک میں مندر پر حملہ ایک سازش تھی ؟

تحریر:عبداللہ شاہ بغدادی

حضرت محمد ﷺ اور خلفائے راشدین کے دور میں اقلیتوں کو مکمل تحفظ حاصل تھا اور اقلیتیں مسلمانوں کی حکمرانی میں خود کو محفوظ سمجھتی تھیں۔جس کی زندہ مثال پوری دنیا کے مسلم ممالک ہے جہاں پر اقلیتوں کو تحفظ حاصل ہے،عالمی سطح پر پاکستان اقلیتوں کیلئے ایک محفوظ مانا جاتا ہے،لیکن افسوس کی بات ہے بعض ملک دشمن شرپسند عناصر عالمی سطح پاکستان کو بدنام کرنے پر تلے ہو ئے ہیں، اگر ہم پاکستان میں اپنی اقلیتوں کا تحفظ یقینی نہیں بنائیں گے تو بھارت سمیت دیگر ممالک میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ہم بھارت کی مثل نہیں ہوسکتے جہاں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کا مسمار کیا جارہا ہے، ہم اپنی اقلیتوں کے ساتھ وہ نہیں کریں گے جو بھارت کررہا ہے، اقلیتوں کو آئین کی رو سے مکمل قانونی اور آئینی حقوق حاصل ہیں۔گزشتہ روزصوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کی تحصیل بانڈا داؤد شاہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں ٹیری میں قائم ہندوؤں کی تاریخی سمادھی اور مندر پر مقامی مشتعل افراد نے دھاوا بول کر توڑ پھوڑ شروع کردی۔ ٹیری کے مقام پر قائم ہندوؤں کی سمادھی اور مندر پر توسیع کا کام کیا جارہا تھا، جس کے خلاف مقامی افراد گذشتہ کئی روز سے احتجاج کر رہے تھے۔ بدھ کی صبح دس بجے سینکڑوں مشتعل افراد نے دھاوا بولا اور زیر تعمیر توسیعی علاقے میں توڑ پھوڑ کی۔پاکستان ہندو کونسل کی جانب سے اس متنازع زمین پر 2015 میں سپریم کورٹ رجوع کرنے کا فیصلہ کیا اور عدالت میں مقدمہ دائر کیا۔ مارچ 2015 میں سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے بتایا تھا کہ سمادھی کی زمین ہندؤں کمیونٹی کے حوالے کی جائے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس وقت کی خیبر پختونخوا حکومت کو حکم دیا تھا کہ سمادھی میں کسی قسم کی توڑ پھوڑ کو روک دیا جائے اور اس کی تاریخی حیثیت بحال کی جائے۔ کرک میں مندر کو آگ لگانے اور مسمار کرنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے مذمت کرتے ہوئے اپنے الگ الگ پیغامات میں لکھا ہے کہ اقلیتوں کے جان ومال اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کی زمہ داری حکومت کی ہے، خیبرپختونخوا حکومت واقعے میں ملوث عناصر کیخلاف سخت کارروائی کریں کیونکہ مندر جلانا یاکسی غیر مسلم کی عبادت گاہوں کو مسمار کرنا کوئی بھی مسلمان نہیں کرسکتا
غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ جس انداز میں عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کیا گیا اس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مواثیق، معاہدات اور فرامین کے ذریعے اس تحفظ کو آئینی اور قانونی حیثیت عطا فرما دی تھی۔ عہدِ نبوی میں اہلِ نجران سے ہونے والا معاہدہ مذہبی تحفظ اور آزادی کے ساتھ ساتھ جملہ حقوق کی حفاظت کے تصور کی عملی وضاحت کرتا ہے۔سوشل میڈیا صارفین کے مطابق کرک میں مندر کو جلانے کا مقصد ملک میں انتشار پیداکرنا ہے جو پاکستان دشمن ممالک کی ایک سازش ہے،شرپسند عناصر نے اپنے آقاوں کو خوش کرنے کیلئے مقامی مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو اپنے ساتھ ملاکر ہندوں کی مذہبی عبادت گاہ کو مسمار کرکے یہ ثابت کررہے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کو تحفظ حاصل نہیں ہے لیکن پاکستان میں تمام اقلیتوں کو مسلمانوں کی تمام تر حقوق اور تحفظ حاصل ہے۔

شیئر کریں