صوبے کو زرعی پیداوار میں خود کفیل بنانے کیلئے چشمہ رائٹ بنک لفٹ کنال کا منصوبہ انتہائی ناگزیر ہے ، محمود خان

پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے غذائی تحفظ کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ صوبے کو زرعی پیداوار میں خود کفیل بنانے کے لئے چشمہ رائٹ بنک لفٹ کنال کا منصوبہ انتہائی ناگزیر ہے ، اس منصوبے کو ہر قیمت اور ہر صورت میں عملی جامہ پہنایا جائے گا جس کیلئے صوبائی حکومت تمام دستیاب آپشنز استعمال میں لائے گی۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ مذکورہ منصوبے کی فنانسنگ کے لیے اس منصوبے کو سی پیک کا حصہ بنانے سمیت دیگر تمام قابل عمل آپشنز کے بارے میں رپورٹ پیش کریں۔ انہوں نے کہا ہے کہ چشمہ رائٹ بنک کنال منصوبے کی تعمیر سے جنوبی اضلاع کی ہزاروں ایکڑ اضافی زمین زیر کاشت آئے گی جس سے نا صرف صوبہ زرعی اجناس میں خود کفیل ہوگا بلکہ لوگوں کو روزگار کے نئے مواقع بھی میسر آئیں گے۔وہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں صوبے کے میگا ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے صنعت عبد الکریم اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری شکیل قادرکے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اور دیگراعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو صوبے میں مختلف میگا منصوبوں پر اب تک کی پیشرفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی جن میں خیبر پاس اکنامک کوریڈور، رشکئی اکنامک زون، پشاور ڈی آئی خان موٹر وے، سوات موٹر وے، دیر موٹر وے، سی پیک سٹی نوشہرہ، نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم، حطار سپیشل اکنامک زون، چشمہ رائٹ بنک کینال اور انصاف روزگار اسکیم کے علاوہ صوبے کے سیاحتی مقامات میں رابطہ سڑکوں کی تعمیر اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ فیڈرل پی ایس ڈی پی میں شامل خیبر پاس اکنامک کوریڈورمنصوبے کے پی سی ون کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی ایگزیکٹیو کونسل نے منظوری دے دی ہے، سوات ایکسپریس وے فیز ون کو مکمل کرکے ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا ہے جبکہ فیز ٹو کی تعمیر کے لئے زمین کی خریداری کا پی سی ون متعلقہ فورم سے منظور کرلیا گیا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ رشکئی اکنامک زون کے افتتاح کی تقریباً تمام تیاریاں مکمل ہے اور نومبر کے آخر تک اس کا افتتاح کیا جائے گا، رشکئی اکنامک زون میں صنعتیں لگانے کے لئے اب تک 700 سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔اسی طرح پشاور ڈی آئی خان موٹر وے منصوبے کی فیزیبیلیٹی اور ڈیزائن کا پی سی ٹو متعلقہ فورم سے منظور ہو چکا ہے جبکہ دیر موٹر وے منصوبے کی فیزیبیلیٹی پر کام جاری ہے۔ صوبے میں بے روزگار ی کے خاتمے کے لئے صوبائی حکومت کے شروع کردہ پروگرام انصاف روزگار سکیم کے حوالے سے بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت ضم شدہ اضلاع میں بلاسود قرضوں کی فراہمی کے لئے جاری کردہ رقم کا 97فیصد حصہ تقسیم کیا جا چکا ہے۔ہزارہ ڈویژن میں سیاحتی مقامات کے لئے رسائی سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 60کلومیٹر طویل 5مختلف رسائی سڑکوں کی تعمیر کے لئے ورک آرڈر جاری کر دئیے گئے ہیں۔ اسی طرح ملاکنڈ ڈویژن میں بھی سیاحتی مقامات تک رسائی کے لئے 35کلومیٹر طویل مختلف سڑکوں کی تعمیر و ترقی کے ورک آرڈر ز جاری ہو چکے ہیں۔ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ عالمی بینک کے تعاون سے خیبرپختونخوا انٹیگریٹڈ ٹووارزم ڈویلپمنٹ منصوبے پر بھی پیش رفت جاری ہے۔منصوبے کی لاگت 17000 ملین روپے ہے۔ خیبر پاس اکنامک کوریڈور منصوبے کا پی سی ون پی ایس ڈی پی اور اکنک سے منظور کیا جا چکا ہے۔ منصوبے کے تحت ایکسپریس وے کی تعمیر کے لئے فزیبیلٹی سٹڈی پر کام شروع ہے جبکہ منصوبے کے دوسرے جزو معاشی ترقی کی ماسٹر پلاننگ کا معاملہ بھی عالمی بنک کے ساتھ اٹھا گیا ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ شہریوں کو مختلف قسم کی خدمات کی آن لائن فراہمی کے لئے سٹیزن فیسیلیٹیشن سنٹرز کے قیام کے منصوبے پر کام جاری ہے ، منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر تین سٹیزن فیسیلیٹیشن سنٹرز قائم کئے جائیں گے۔وزیراعلیٰ نے حکام کو ہدایت کی کہ شہریوں کی سہولت کے لئے صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹر ز میں سٹیزن فیسیلیٹیشن سنٹر ز کا قیام بھی منصوبے میں شامل کیا جائے۔ ان میگا ترقیاتی سکیموں کی بروقت تکمیل کو اپنی حکومت کی ترجیحات کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکمے اپنے اپنے ترقیاتی منصوبوں پر دی گئی ٹائم لائنز کے مطابق پیش رفت کو یقینی بنائیں ، ان منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں ہوگی اور تاخیر کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

شیئر کریں