محسن داوڑ نےوزیرستان کے لوگوں کو ان کے حق سے محروم کردیا ہے،ایم پی اے میر کلام کی مدد سے محکمہ صحت میں کرپشن

بنوں:شمالی وزیرستان محکمہ صحت میں چوری چھپکے سے بھرتیاں، وزیرستان ینگ پیرا میڈیکس نے بھرتیوں کو مسترد کرتے ہوئے ان کو فوری طور پرمنسوخ کرنے کا مطالبہ کر دیا اور اس پر اثر انداز ہونے والے ایم این اے شمالی وزیرستان محسن داوڑ اور ایم پی اے پی کے 112 میر کلام اینڈ کمیٹی کی طرف سے مختلف انداز سے اُمیدواروں اور ایجنسی سرجن پر دباؤ ڈالنے اور ان کے ڈرانے دھمکانے کے نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کردیا کہ مذکورہ آسامیاں عدالتی میں حکم امتناعی کے باجود پُر کی گئی ہیں جس کو ہم کسی صورت ماننے کے لئے تیار نہیں اگر اس کینسل نہ کیا گیا تو ہم عید کے بعد ان کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاجی تحریک چلانے سے گریز نہیں کریں گے.

وزیرستان ینگ پیرا میڈیکس کے فداء اللہ خان صدام خان نے امیدواروں کے ہمراہ بنوں پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے کہا کہ شمالی وزیرستان کے عوام جنگ زدہ ہیں اور بہت سارے معاشی مسائل سے دوچار ہیں ان کے پاس دو وقت کی روٹی کھانے کے لئے وسائل مشکل سے دستیاب ہوتے ہیں ان مشکل حالات میں یہاں کے نوجوانوں نے پڑھا اور جب ان کے والدین کی امید پیدا ہوگئی کہ اب ان کے بچے ان کو کھلائیں گے تو وزیرستان کے ایم این اے محسن داوڑ اور ایم پی اے میر کلام نے ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا اورپیرا میڈیکس کے 71آسامیوں پر حقدار اُمیدواروں کی بجائے بغیر کسی اشتہار کے ایسے افراد کو بھرتی کئیے جس کے پاس میڈیکل فیکلٹی کے اسناد تک نہیں اس کے علاوہ ایسے افراد بھی بھرتی کئے گئے جس کو پیچھے تاریخوں میں ظاہر کیا گیاظلم کی انتہا ء یہ کہ ان میں نان لوکل بندوں کو بھی بھرتی کیا گیا ہے ہم ان سلیکٹیڈ بھرتیوں کا مسترد کرتے ہیں

سابق ایجنسی سرجن نے محکمہ صحت میں مختلف کیڈر کی 71آسامیوں کا اشتہار کیا تو شمالی وزیرستان کے ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑنے ملی بھگت کے ذریعے آسامیوں پر کرنے کو کہا انکار پر اُنہیں عہدے سے ہٹایا پھردوسرا ایجنسی سرجن حمید الرحمن آ یا جنہوں نے بھی یہی آسامیاں مشتہر کیں ٹیسٹ و انٹریوز ہوئے تو اس میں بھی ایم این اے رکاوٹ بنے اور میرٹ کے نام پر بین کروا کرحمید الرحمن کا تبادلہ کروایا پھر تیسرا ڈی ایچ او آ یا اور اور اُنہوں نے آسامیاں مشتہر کیں پھر انٹریوز بین کر دی اکتوبر 2019میں دو بارہ مشتہر کیا اس میں ملوث نکلے جس کے سارے ثبوت ہمارے موجود ہیں اور آخر کار چوری چھپکے سے 71 امیدواروں کو بغیر کسی ٹیسٹ و انٹرویوز کے بھرتی کیا گیا جس کی فہرست ہم نے حاصل کر لی ہے اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائیوں سے متاثر ہوئے ہیں آپریشن ضرب عضب میں تکالیف اُٹھائیں اس مشکل حالات میں تعلیم حاصل کی اور جب خاندان والوں کی ہم سے اُمید پیدا ہوئی تو ترقی کی راہ میں کرپٹ مافیا رکاوٹ بن گئی لہذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کومنسوخ کرکے باقاعدہ میرٹ پر تعیناتی کی جائے اور حقدار کو حق ملنا چاہئے بصورت دیگر ہم عید کے بعد احتجاجی تحریک چلائیں گے اور ان کے خلاف عدالت بھی جائیں گے اُنہوں نے محسن داوڑ کو بھی اڑے ہاتھوں لیا کہ ان کی وجہ سے وزیرستان کے لوگوں کو ان کے حق سے محروم کردیا ہے۔

شیئر کریں