ایشال کو انصاف کب ملے گا

تحریر:مراد علی مہمند ۔۔۔ پوری دنیا کورونا کو رو رہی ہے لیکن یقین جانیں یہ اللہ کا عذاب اور سزا ہے. ہمارے اعمال ایسے ہیں کہ اللہ نے ہم پر ایسی بیماریاں مسلط کر دی ہے جو جان لیوا ہے اور ایک سیکنڈ میں ایک انسان سے دوسرے انسان کو یہ مرض لگ جاتا ہے.رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوا ہے تین روزے ہی گزرے تھے کہ 8 سال کی ایک گڑیا ایشال اپنے صحن تہکال پشاور میں کھیل رہی تھی اور اس کے ظالم چچا نے شور کا بہانہ بنا کر اس بچی پر گولیوں کی بمباری شروع کر دی اور ایشال کو شہید کر دیا ایسی ننھی سی گڑیا کو قتل کرنا انصاف کے ترازو اور عدالتوں کو کھلے عام چلینج دینا ہے.اس میں کوئی شک نہیں کہ پولیس نے ایف آئی آر کاٹ لی اور ملزم کو بھی گر فتار کیا گیا ہے . اب سوال یہ ہے کہ آیا ایشال کو انصاف مل جاے گا اس طرح اور بہت ساری بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد بھی ہو چکا ہے. قانون اتنا کمزور کیوں ہے آیا ایسے کیسزز میں بھی عدالتوں میں شہادت کی ضرورت ہوتی ہے آیا گواہ کی ضرورت ہوتی ہے. ایشال کی ویڈیو کو تو پوری دنیا نے دیکھ لیا ہے. مجھے عدالتی تقاضوں کا کوئی علم نہیں ہے لیکن یقین جانیں ہمارے اوپر اللہ ایسی ہی عذاب اور مرض میں مبتلا کریں گے جو آج ہمارے سامنے ہے.میں تو کہوں گا کہ چیف جسٹس اسکی سزا سنائے اور پورے پاکستان کی میڈیا اس کیس کی کوریج کرے اور سزا میں صرف پھانسی کی سزا ہونی چاہیے تاکہ کوئی دوسرا چچا یا دوسرا انسان ایسا نہ کرے. ہم لا کے سبجیکٹ میں پڑھتے تھے کہ ملزم کو deterent سزا دینی چاہیے یعنی ایسی سزا جس سے انسان کے بال کھڑے ہو انسان کی روح کانپ جا ئے. عبرت ناک سزا کا قانون پاکستان میں بنانا چاہیے تاکہ لوگوں کو انصاف جلد مل سکے. مرکزی اور صوبا ئی حکومتیں ایسے بل پاس کرے جو لوگ بچیوں اور بچوں کو زندہ درگور کرتے ہیں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے ہیں ان کو اپنے ہوس کا نشانہ بناتے ہیں تو تلوار سے انکا سر قلم کیا جاے اگر وہ ممکن نہیں تو پھر سزاے موت پھانسی اور جو کیسزز ایسے میڈیا پر بھی آجائے یعنی ثبوتوں کے ساتھ تو وہ فیصلہ عدالت عالیہ ایک مہینے کے اندر فیصلہ سناے.اگر عدالتوں کے فیصلے کمزور ہونگے تو لوگوں کو عدالتوں اور انصاف سے اعتبار اٹھ جاے گا.حال ہی میں ایک پولیس آفیسر نے چار لوگوں کو مار ڈالا جنھوں نے ایک بچی کو ہوس کا نشانہ بنایا پوری قوم نے اس پولیس آفیسر کو خراج تحسین پیش کیا پتہ ہے کیوں. کیونکہ لوگوں کا عدالتی نظام اور انصاف سے اعتبار اٹھ گیا ہے.ایسے روزوں کا کیا فائدہ جو اپکو معصوم جانوں کو قتل کرنے پر آمادہ کرے. مجھے شک پڑھتا ہے کہ ایشال کے چچا کی کوئی ذاتی دشمنی بھی ان لوگوں سے بصورت نفرت ہوگی اور اس کو اس نے ایشال کے خون سے ٹھنڈا کیا. یہ کرہ ارض پر سب سے بڑا ظلم دہشتگردی نا انصافی بربریت ہے جب آپ ایک معصوم بچی کی جان صرف شور کے بہانے لے.اللہ ہمارے اوپر رحم کرے اور ایشال کے والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین ان پر قیامت گزر رہی ہو گی اور اب ان کے لیے اس دنیا میں ایشال نہیں لیکن اسکا انصاف ہی ان کے دل کو سکون دی سکتی ہے.

شیئر کریں